Showing posts with label Separa. Show all posts
Showing posts with label Separa. Show all posts

Friday, 26 April 2024

عَمَّ پارہ-30 مختصر مضامین

 أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- روز قیامت کوئی سفارش نہ کرسکے گا

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن انسان اور فرشتے صفیں بناکر دربار الٰہی میں کھڑے ہونگے اور خوف الٰہی سے بات تک نہ کرسکیں گے۔ وہی بات کرسکے گا جس کو اللہ رحمن حکم دے گا۔ وہ شفاعت کے بارے میں اچھی اور معقول بات کرے گا یعنی اسی کی سفارش کرےگا جس نے دنیا میں لاالٰہ الااللہ پڑھا اور اس پر عمل کیا ھوگا۔

2- روح نکالنے والے فرشتے

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ فرشتے جو اس کام پہ مامور ہیں بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہوئے جسم سے نکالتے ہیں جیسے کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں اور جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے اور بعض کی روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جسے کسی کے بند کھول دیے جائیں۔ جب رب کا حکم آجاتا ہے تو روح قبض کرنے والے فرشتے لمحہ بھر بھی دیر نہیں لگاتے۔

3- ایک نیکی کا سوال ہے

جب کانوں کو بہرا کرنے والا قیامت کا شور ھوگا تو اس دن بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا کچھ ہمدردی نہ کرے گا۔ ماں باپ سے بھاگے گا۔ بیوی بچوں سے دور بھاگے گا۔ کوئی کسی کو ایک نیکی دینے کو تیار نہ ھوگا۔ اس دن سب کو اپنی اپنی جانوں کی پڑی ھوگی۔

4- سجین اور علیین

نافرمانوں، کفار اور شیاطین کے اعمال نامے سجین میں ہیں۔ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے علیین میں ہیں۔ علیین ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنین کی روحیں ہیں۔

5- ابرہہ کا واقعہ

جس نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبةاللہ کو گرانے کے لئے چڑھائی کی تھی۔ تدبیر یہ کی تھی کہ آٹھ یا بارہ اونچے اور موٹے ہاتھی لیے اور مضبوط زنجیریں، تاکہ کعبہ کو زنجیروں سے باندھ کر ہاتھی کھینچیں گے اور وہ گرجائے گا۔ اللہ تعالٰی نے ابابیلوں کو بھیجا جن کی چونچ پرندوں جیسی، پنچے کتوں جیسے اور سر درندوں جیسے تھے۔ ان پرندوں نے پتھراؤ کیا جس کو پتھر لگا وھ دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس طرح ﷲﷻ نے ابرہہ کے لشکر کو شکست دی۔

6- نہر کوثر

معراج کی رات رسول اکرم ﷺ نے آسمان پر جنت میں اس نہر کو دیکھا اور جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کونسی نہر ہے! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا یہ کوثر ہے جو اللہ تعالٰی نے آپﷺ کو عطا کی ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہونگے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہونگے۔ جس پر قیامت کے دن حضور پاک ﷺ کے امتی آئیں گے۔ بعض کو ہٹایا جائے گا تو میں ﷺ کہوں گا اے رب! یہ میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں۔

7- ہلاکت کن لوگوں کے لئے ہے

جو قیامت کے دن کوجھٹلاتا ہے۔ جو غریب، یتیم، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا اور حسن سلوک نہیں کرتا۔ نہ خود دیتا ہے اور نہ اوروں کو کار خیر پر آمادہ کرتا ہے۔ جو نمازوں کو مکروہ وقت میں جلدی جلدی پڑھتا ہے جیسے مرغ ٹھونگیں مارتا ہے اس میں خشوع وخضوع اور اللہ کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔یہ صرف دکھاؤے کی نماز ہوتی ہے۔ ہمسائے اور ضرورت مند اگر عام استعمال کی کوئی چیز کچھ وقت کے لیے مانگیں تو انکار کر دیتا ہے۔

8- سورۂ اخلاص تہائی قرآن ہے

مشرکین نے حضور ﷺ سے کہا کہ اپنے رب ﷻ کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو تو یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھاری پڑا اور عرض کی بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو! یہ سورت (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔۔۔) تہائی قرآن ہے۔

9- معوذتین کا پڑھنا جادو وغیرہ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

کسی یہودی نے نبی کریم ﷺ پر سحر کردیا تھا جس سے سہو اور نسیان کی حالت ہوگئی۔ اس کا اثر ختم کرنے کے لیےﷲﷻنے آپﷺ پر یہ دو سورتیں (الفلق، الناس) نازل کیں۔ آپﷺ یہ آیات پڑھتے جاتے تھے اور آپ ﷺ کی حالت بہتر ہوتی جاتی تھی اور آیات کے خاتمہ پر آپ ﷺ بالکل تندرست ہوگئے۔

(سورۂ النبا، النزعت، سورۂ عبس، سورۂ التکویر، سورۂ الانفطار، سورۂ المطففین، سورۂ الانشقاق سورۂ البروج، سورۂ الطارق، سورۂ الاعلے، سورۂ الغاشیة، سورۂ الفجر، سورۂ البلد، سورۂ الشمس، سورۂ الیل، سورۂ الضحی، سورۂ الم نشرح، سورۂ التین، سورۂ العلق، سورۂ القدر، سورۂ البینة، سورۂ الزلزال، سورۂ العدیت، سورۂ القارعة، سورۂ التکاثر، سورۂ العصر، سورۂ الھمزة، سورۂ الفیل، سورۂ قریش، سورۂ الماعون، سورۂ الکوثر، سورۂ الکافرون، سورۂ النصر، سورۂ اللھب، سورۂ الاخلاص، سورۂ الفلق، سورۂ الناس)

تَبَارَكَ الَّذِي پارہ- 29 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1 - سورۂ ملک کی فضیلت

حضور کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قرآنِ مجید میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۔۔۔)ہے۔ 
ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابنِ ماجہ، مسند احمد۔

2- اگر ﷲﷻ زمین میں پانی خشک کردے تو کون تمہیں پانی دے سکتا ہے؟

اللہ تعالٰی پوچھتا ہے کہ پانی جس پر زندگی کا دارومدار ہے زمین میں خشک ہوجائے، یا زمین کی تہوں میں گہرا اتر جائے اور تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو اللہﷻ کےسوا کون تمہیں پانی دے سکتا ہے؟
(حدیث مبارکہ میں اس کا جواب ﷲ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ آیا ھے)

3- ﷲ تعالٰی کو قرض دو

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اپنا مال ﷲﷻ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کرتے رہو، جو اللہ تعالٰی کو قرض حسنہ دے گا اللہ تعالٰی اسے اس سے بہت بہتر اور بڑھا چڑھا کر واپس دے گا۔

4- بد بخت انسان کی صفات

بدبخت اور بد نصیب شخص بہت زیادہ قسمیں کھانے والا، طعنے دینے والا، چغلی کرنے والا، بھلائی اور نیکی سے روکنے والا، سخت مزاج اورحد سے بڑھنے والا ہے۔

5- مجرم قیامت کے دن سجدہ نہ کر پائیں گے

قیامت کے دن جب اللہ تعالٰی اپنی تجلی دکھائیں گے تو ہر مومن مرد اور عورت سجدہ میں گر پڑیں گے۔ مگر جو لوگ دنیا میں سجدہ نہ کرتے یا دکھانے کے لیے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے مگر ان کی کمر تختہ کی طرح ہوجائے گی اور سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان پر ذلت چھاجائیگی اور آنکھیں ندامت سے جھک جائیں گی۔

6- مسکینوں کو ان کے حق سے محروم نہ رکھو - سبق آموز واقعہ۔

اللّٰہ تعالٰی باغ والوں کی آزمائش کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ جب انہوں نے سوچا کہ ہم صبح سویرے آکر غریبوں اور مسکینوں کے آنے سے پہلے سارا پھل توڑ لیں گے۔ اور انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ پس جب رات کو وہ سوئے تو حکم الٰہی سے آگ نے سارا باغ جلا کر راکھ کا ڈھیر کردیا۔ پس صبح ہوتے ہی تینوں بھائی ایک دوسرے کو جگانے لگے اور اٹھ کر باغ کی طرف روانہ ہوئے اور آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے تھے کہ آج کوئی محتاج گھسنے نہ پائے گا اور ہم سارا پھل توڑ لیں گے۔ جب وہاں پہنچے تو باغ راکھ کا ڈھیر تھا۔ کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں یہ تو ہمارا باغ نہیں ہے۔ پس جب یقین آگیا کہ وہی جگہ ہےتو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
  
(سورۂ المک، سورۂ القلم، سورۂ الحاقہ، سورۂ المعارج، سورۂ نوح، سورۂ الجن، سورۂ المزمل، سورۂ المدثر، سورۂ القیالدھر، سورۂ الدھر، سورۂ المرسلت)

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ پارہ-28 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- اللہﷻ ہر وقت تمھارے ساتھ ہوتا ہے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ کیا تونے دیکھا کہ اللہ لَطِیفٌ خَبِیرٌ زمین وآسمان کی ہر چیز سے واقف ہے، جب تین لوگ مشورہ کرتے ہیں تو چوتھا اللہﷻ ہوتا ہے۔ اور جب پانچ مشورہ کریں تو چھٹا اللہﷻ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے اللہ تعالٰی قیامت کے دن بتادے گا۔ بے شک وہ ہر چیز سے واقف ہے۔

2-سرگوشی کے احکام

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اے ایمان والو! جب تم آپس میں کوئی سرگوشی کرو تو گناہ،سرکشی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو۔ ہاں اگر سرگوشی کرو تو نیکی اور پرہیز گاری کی کیا کرو۔ بے شک گناہ کی سرگوشی تو شیطان کا کام ہے۔ رسولِ کریم ﷺ نے  فرمایا "جب تم تین آدمی ہو تو، دو مل کر آپس میں کان میں باتیں نہ کرنے بیٹھ جاؤ۔ اس سے تیسرے کا دل میلا ہوگا

3- انسان کیسا سخت دل ہے

خالق کائنات فرماتا یے کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے اور اسے سوچنے اور سمجھنے کی استعداد عطا کرتے تو تم دیکھتے کہ خوف خدا سے پہاڑ پھٹ جاتا، مگر انسان کیسا سخت دل ہے کہ اس پر کچھ اثرنہیں ہوتا پھر فرماتا ہےکہ یہ مثالیں ہم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ غور وفکر کریں۔

4- اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا بیان

اللّٰہ تعالٰی اپنے صفاتی ناموں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اسی کے لیے سب اچھے اچھے نام ہیں، ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی ہی پاکی بیان کرتی ہے۔ بخاری ومسلم شریف میں حدیث ہے کہ اللہ ﷻ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں شمار کرکے یاد رکھ لے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

5- وہ بات کیوں کہتے ہو جو  کرتے نہیں

اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ کسی بات کو منہ سے کہہ کر اس پر عمل نہ کرنا اللہ عزوجل کو سخت ناپسند ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ ایک ماں نے بچے کو بلایا کہ آؤ میں کچھ دوں گی آپﷺ نے پوچھا کیا تو واقعی کچھ دینا بھی چاہتی ہے، عورت نے کہا جی ہاں کھجوریں، آپ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے ورنہ تیرے اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔

6- نماز جمعہ کی فضیلت

سورۂ جمعہ میں ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ حضور پاکﷺ جمعہ کا خطبہ فرمارہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ غلہ لے کر آگیا تو سب دوڑ کر باہر چلے گئے صرف بارہ لوگ خطبہ سنتے رہ گئے۔ اس پر حکم الٰہی نازل ہوا کہ مسلمانو! جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے آذان ہوجائے تو اللہ ﷻ کے ذکر کی طرف جلدی آیا کرو اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے حق میں بہتر ہے اگر  تم سمجھو ۔ ہاں جب نماز ہوجائے تو پھر اپنا کاروبار کرسکتے ہو۔

7-جہنم سے بچو اور گھر والوں کو بھی بچاؤ۔

حکم الٰہی ہے کہ اے ایمان والو! خود کو اور اپنے اہل وعیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ خود بھی فرمانبرداری کرو اور ان کو بھی تاکید کرو۔ایک اور جگہ فرمایا: کہیں تمھارے مال اور تمھاری اولاد ہی نہ تمہیں اللہ ﷻ کے ذکر سے غافل کردیں اور جو ایسا کرے گا وہی نقصان اٹھانے والا ھے۔

(سورۂ المجادلہ،سورہ الحشر, سورۂ الممتحنہ، سورۂ الصف، سورۂ الجمعہ، سورۂ المنافقون، سورۂ التغابن, سورۂ الطلاق، سورۂ التحریم)

Saturday, 6 April 2024

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ پارہ- 27 مختصر مضامین

 
أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قرآن کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا ہے، تو کیا کوئی ہے جو سمجھے؟

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ قرآنِ مجید میں جتنے مضامین نصیحت سے متعلق ہیں اُن سب کا اسلوبِ بیان نہایت آسان اور قابل فہم ہےجو بھی نصیحت حاصل کرنا چاہے باآسانی سمجھ کر نصیحت حاصل کرسکتا یے اور اپنی اصلاح کرسکتا ہے۔ پھر رب العالمین فرماتا ہے کہ "کیا کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے؟"

2- ﷲﷻکی نعمتوں کو نہ جھٹلا سکو گے

اللّٰہ تبارک وتعالٰی جنوں اور انسانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ تم اپنے ربﷻکی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ یعنی تم اس کی نعمتوں میں سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہو اور ان نعمتوں اور نظامِ قدرت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کرسکو۔

3- دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے

اللّٰہ تعالٰی خوشخبری سنا رہا یے کہ قیامت کے دن جن لوگوں کو ان کے اعمال نامے (رزلٹ کارڈ) دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ خوش نصیب جنت اور اسکی نعمتوں کے حقدار ہونگے اور جن لوگوں کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ دوزخ اور اسکے عذابوں کے مستحق قرار پائیں گے۔

4- قیامت کے دن کا منظر

اللّٰہ تعالیٰ قسم کھاکر بیان کرتا ہے کہ پروردگار کا عذاب آکر رہے گا، اور اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جس دن آسمان تھرتھرائے گا، پہاڑ اون کی طرح اڑنے لگیں گے، خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے زندگی کھیل کود میں گزاری، اس دن فرشتے دھکے دے دے کر ان کو آتش جہنم کی طرف لے جائیں گے اور کہیں گے یہ وہ آگ ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

5-قیامت کے روز مومنوں کے لئے نور ہوگا

ارشادِ حق تعالیٰ ہے کہ قیامت کے دن ایماندار مرد اور عورتوں کو نیک اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں دوڑ رہا ہوگا(اور پل صراط پر روشنی بنے گا)۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ بعض کا نور پہاڑوں کے برابر، بعض کا کھجور کے درختوں کے برابر، بعض کا انسانی قد کے برابر اور سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر ہوگا جو کبھی روشن اور کبھی بجھتا ہوگا۔

6- دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سودا ہے۔

خالق کائنات فرماتا ہے کہ جان لو دنیا کی زندگی جو اللہ ﷻ اور رسول ﷺ کی مرضی کے خلاف بسر کی جائے محض بچوں کا کھیل تماشا ہے۔ عورتوں کا بناؤ سنگھار اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی کثرت طلب کرنا بالکل اس بارش جیسا ہے جس سے نباتات اُگتی ہیں تو کسان خوش ہوجاتے ہیں پھر خشک ہوکر چورا چورا اور برباد ہوجاتی ہے۔ آخرت میں ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ سخت عذاب ہے۔ اسکے برعکس اطاعتِ خداﷻ و رسولﷺ اور ذکر الٰہی میں زندگی بسر کرنے والوں کے لیے بخشش اور رب کی خوشنودی ہے۔

(سورۂ الذریت، سورۂ الطور، سورۂ النجم، سورۂ القمر، سورۂ الرحمن، سورۂ الواقعة، سورۂ الحدید)

حٰمٓ پارہ-26 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- حضور اکرم ﷺ جنات کے بھی نبی ہیں

نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد جب جنوں کو پہلے آسمان پر جاکر چوری چُھپے باتیں سننے اور خبریں لانے سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس کی وجہ دریافت کرنے کے لئے سات جنوں کی ایک جماعت کو زمین پر بھیجا جب یہ وادی نخلہ میں پہنچے تو حضورِ اکرمﷺ طائف سے واپسی پر نماز عشاء ادا کررہے تھے، جنوں نے قرآن مجید کی قرأت سنی تو آپﷺ پر ایمان لاکر واپس لوٹ گئے۔

2- کافروں کے لیے صرف دنیا کا فائدہ ہے

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالٰی انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا ہی کا) فائدہ اٹھارہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا رہے ہیں انکا اصل ٹھکانہ جہنم ہے۔ ازروئے حدیث مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔

3- قرآنِ عظیم پر غور وفکر نہ کرنے والوں کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں

اللہ تعالٰی اپنے کلام پاک میں غور وفکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت کرتاہے اور اس سے بے پرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ اور فرماتا ہے پس کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں میں تالے لگ گئے ہیں؟

4- اپنی آوازیں رسولِ کریمﷺ کی آواز سے پست رکہو

اللّٰہ تعالٰی امتیوں کو نبی ﷺ کےآداب سکھاتا ہے کہ مسلمانوں اپنی آواز نبیﷺ کی آواز سے بلند نہ کیا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور سے بولتے ہو، اس بے ادبی کی وجہ سے کہیں تمھارے اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔

5- گمان اور غیبت سے بچو

حکم الٰہی ہے مسلمانو! مسلمانوں کے بارے میں گمان کرنے سے پرہیز کیا کرو کیونکہ بعض گمان مثلآ نیک کے بارے میں بُرا گمان گناہ ہے۔ اور نہ کسی کی عیب جوئی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو، تم میں سے کون اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ غیبت اس سے بھی بُری حرکت ہے۔ اللہﷻ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کریم معاف فرمانے والا ہے۔

6- إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے تمھیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا۔ پھر شاخیں اور قبیلے بنادیے تاکہ تم آپس میں پہچان رکھ سکو۔ اللہﷻ کے نزدیک تم میں سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔مسلم شریف کی حدیث کے مطابق اللہﷻ تمھاری صورتیں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔

(سورۂ الاحقاف، سورۂ محمدﷺ، سورۂ الفتح، سورۂ الحجرات، سورۂ ق، سورۂ الذریت)

اِلَیۡہِ یُرَدُّ پارہ-25 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- دنیا کا طالب اور آخرت کو چاہنے والا

اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے، بڑا طاقتور، غالب اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ جو شخص اپنے نیک عمل کا اجر آخرت میں چاہتا ہے وہ اس کا اجر آخرت میں زیادہ کر دیتا ہے، اور جو اس عمل سے دنیا کا اجر چاہتا ہے وہ اسے دنیا میں ہی اجر دیدیتا ہیں اور آخرت میں اس کو اجر سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

2- مصیبت اور پریشانی گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اے لوگوں! تمھیں جو بھی دنیا میں مصیبت پہنچتی ہے وہ تمھارے ان اعمالِ بد کی شامت ہوتی ہے جو تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ "مومن کو جو تکلیف، سختی، غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالٰی اس کی خطائیں معاف کردیتا ہے، یہاں تک کہ ایک کانٹا چبھنے کے عوض بھی۔" گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

3- ظلم پر جو معاف کردے اس کا اجر ﷲ ﷻ کے ذمہ ھے۔

اللّٰہ تعالٰی مومنوں کی شان بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی ان پر ظلم کرے تو صرف اتنا ہی بدلہ لیتے ہیں اور زیادتی نہیں کرتے، اور برائی کے بدلے ویسا ہی بدلہ لیا جاسکتا ہے۔ پس جس نے برائی کرنے والے کو عفو ودرگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کردیا اور اس سے صلح کرلی اس کے لیے بہت بڑا اجر وثواب ہے جو ﷲ ﷻ کے ذمہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

4- سوار ہونے کی دعا۔

جب تم سواری پر اچھی طرح جم کر بیٹھ جاؤ تو ﷲ ﷻ کا احسان یاد کرو اور زبان سے 
سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ۔

وہ ذات پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مطیع کردیا اگر ہمیں وہ قدرت نہ بخشتا تو ہم اس کو قابو میں نہ لاسکتے تھے۔

5- ﷲﷻ کے ذکر سے غفلت کا نتیجہ

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ جو شخص اللہ تعالٰی کی یاد سے غفلت کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔ شیطان اس کو راہِ راست سے روکتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں سیدھی راہ پر چل رہا ہے۔ جب قیامت کے روز دربار الٰہی میں اعمال پیش کیے جائیں گے تو یہ کہے گا کاش! تیرے اور میرے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا۔ پس شیطان کیسا برا ہمنشین ہے جس کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑے گا۔

6- ہاہمی مشورہ کی اہمیت۔

اللّٰہ تعالٰی مومنوں کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم رکھتے ہیں، اور ضروری معاملات کے حل کے لیے آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ اور ﷲ ﷻ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ بھی بڑے بڑے کاموں میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔

7- زمانے کو برا مت کہو۔

اللّٰہ تعالٰی فلسفیوں اور دہریوں کے عقائد کی نفی کررہا ہے، وھ کہتے ہیں ہمارا زندہ ہونا اور مرجانا بس یہیں دنیا میں ختم ہو جاتا ہے, (ظالم) زمانہ ہی ہمیں فنا کر دیتا ہے، مگر ان لوگوں کو کچھ علم نہیں ہے یہ تو محض قیاس اور اٹکل پچو کی باتیں کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا" اللہ تعالٰی فرماتا ہے مجھے ابنِ آدم ایذا دیتا ہے جب وہ دہر (زمانے) کو بُرا کہتا، گالی دیتا ھے۔ زمانہ تو میں ہی ہوں، تمام کام میرے ہاتھ سے ہوتے ہیں۔ رات دن کا ہیر پھیر میں ہی کرتا ہوں۔

(سورۂ حم السجدہ، سورۂ الشوریٰ، سورۂ الزخرف، سورۂ الدخان، سورۂ الجاثیہ)

فَمَنْ أَظْلَمُ پارہ-24 مختصر مضامین

أعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- اللّٰہ آنکھوں کی خیانت اور سینے کے راز جانتایے

اللّٰہ تعالٰی ایسا علیم ہے جو آنکھوں سے چوری چھپے غیر محرم پر نگاہ ڈالنے، دل کی نیت اور پیدا ہونے والے ہر خیال کو جانتا ہے "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ" اور ہر ایک بات کی باز پرس کریگا۔

2- ﷲ رحمٰن کی رحمت سے مایوس نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی قرآنِ عظیم میں اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتا کہ
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ, إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
اے میرے بندوں! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بیشک وہ سب گناہ بخش دے گا۔ پس اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مانو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے۔

3- وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

ﷲﷻ فرمارہا ہے کہ جیسی ذات باری تعالٰی کی عظمت و قدر کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی گئی۔ لوگوں نے اسکی مخلوقات کو ہی اس کا شریک ٹھرا دیا حالانکہ اس کی رفعت و شان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے۔ اللہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔

4- آج کس کی بادشاہی ہے؟

جس دن سب لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہونگے اور انکی کوئی بات اللہ تعالٰی سے چھپی نہ ہوگی اور حکم الٰہی ہوگا کہ بتاؤ آج کس کی حکومت ہے لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ پھر خود ہی فرمائے گا، لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ حکومت اللہ ہی کی جو ایک بڑا غالب ہے۔پھر ارشادِ الٰہی ہوگا کہ آج ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔

5- تم دعا مانگو، میں قبول کروں گا

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ "وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" مجھ سے دُعا کرتے رہو میں تمھاری دعاؤوں کو قبول کرتا رہوں گا اور جو لوگ تکبر کی وجہ سے عبادت اور دعا سے منہ موڑتے ہیں وہ عنقریب قیامت کے روز بڑی ذلت اور خواری سے دوزخ میں داخل کئے جائیں گے۔

6- باعمل مسلمان اللہ ﷻ کی عدالت میں

مؤمن جب اللہ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو فرشتے بڑی عزت اور احترام سے کہیں گے، آئیے جنت میں داخل ہوجائیے یہ جنت آپ ہی کے لئے بنائی گئی ہےاور اللہ تعالٰی کی طرف سے کے لیے داخل ہو جاؤ, اور مومن جواب میں کہیں گے کہ تمام تعریف اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔ بے شک اللہ تعالٰی کس قدر بہترین قدردان، نعمت اور انعام دینے والا ہے .

(سورۂ الزمر، سورۂ المؤمن، سورۂ حم السجدہ)

وَمَالِیَ پارہ-23 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قیامت کے دن ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے

اللّٰہ تعالٰی قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس دن ہم مجرموں کے منہ پر مہر لگا دیں گے۔انہوں نے دنیا میں جو بد اعمالیاں کی ہونگی، تب ﷲ تعالیٰ ہاتھ اور پیر کو حکم دیں گے کہ تم بتاؤ کہ اس نے یہ عمل کیا ہے یا نہیں؟ تو انکے ہاتھ اور پیر ﷲ کے حضور میں سب کچھ سچ سچ بتادیں گے۔ پھر مجرموں کو کوئی راہ فرار نہ مل سکے گی۔

2- اہل جنت دنیاوی زندگی کا ذکر کریں گے
  
رب العزت بیان فرماتا ہے کہ اہل جنت ایک دوسرے سے دنیا کے بابت بات کریں گے ایک کہے گا میرا ایک دوست تھا حیات بعد از موت کا یقین نہیں رکھتا تھا۔ حق تعالٰی فرمائے گا کیا تم اس کو دیکھو گے۔ لہٰذا جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو اس کا دوست جہنم کے درمیان میں جل رہا ہوگا۔ یہ بولے گا کہ قریب تھاکہ میں بھی گمراہ ہو جاتا مگر اللہ ربّ العالمین نے اپنے فضل سے مجھے بچالیا۔

3- حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی کے ہمراہ عراق سے ہجرت کرکے ملک شام جارہے تھے۔ آپ نے اللہ تعالٰی سے ایک صالح اولاد کی دُعا کی۔ ﷲ تعالٰی نے آپ کو چھیاسی برسں کی عمر میں آپکی بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔ پھر تینوں مکہ تشریف لے آئے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آٹھ ذوالحجہ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے۔ یہی خواب آپ نے لگاتار تین راتوں میں دیکھا اور آخر کار دس ذوالحجہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مشورہ کیا کہ خواب میں حکم ہوا ہے کہ راہِ خدا میں تجھے ذبح کردوں۔تیری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا آپ حکم الٰہی کی تعمیل کریں انشاء ﷲ مجھے صابر پائیں گے۔ آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لےکر کعبہ کے نزدیک مروہ کے مقام پر پہنچ گئے اور بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اور چھری چلائی۔ تو غیب سے ندا آئی کہ اے ابراہیم ! علیہ السلام تو نے اپنا خواب سچا کردکھایا، یہ تمھارا امتحان تھا اللہ تعالٰی نے ایک ذبیحہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ بھیج دیا اور آنے والی امتوں کے لئے یہ عمل جاری کردیا ۔

4- حضرت داؤد علیہ السلام کا مشہور فیصلہ

حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنا دستور العمل (ٹائم ٹیبل) بنا رکھا تھا، ایک روز صرف عبادت کرتے، ایک روز مقدمات کا فیصلہ کر تے۔ ایک روز وعظ دیتے اور ایک روز گھر کے کام نپٹاتے۔ اور رات دن کے چوبیس گھنٹوں کو اپنے گھر والوں پر اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی انکے گھر میں عبادت میں مشغول ہوتا۔ ایک دفعہ بارگاہِ الٰہی میں اپنے اسی حسنِ انتظام کو عرض کیا تو اللہ تعالٰی کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ ﷲ نے ان کو آزمانے کے لئے دو فرشتے بھیجے جو سخت پہرے داروں کے باوجود ان کے پاس پہنچ گئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا ایک نے کہا میرے بھائی کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ وہ مجھ سے ایک دنبی چھیننا چاہتا ہے، اور وہ بات چیت میں بھی بہت تیز ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ وہ تیری دنبی چھین کر تجھ پر ظلم کرے گا، مگر ایماندار لوگ ایسا کام نہیں کرتے۔ فیصلہ کرنے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام نے سوچا کہ میرا جو وقت آج عبادت الہٰی کے لئے مخصوص تھا مقدمہ کا فیصلہ کر نے میں ضائع ہوگیا۔ پھر سمجھ گئے کہ یہ ﷲ کی طرف سے آزمائش تھی اور اللہ کی توفیق کے بغیر میں اس کی عبادت نہیں کرسکتا۔ پس سجدے میں گر کر اللہ سے معافی مانگی۔اور اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔

(سورۂ یسین، سورۂ الصفت، سورۂ ص، سورۂ الزمر)

وَمَنْ يَقْنُت پارہ-22 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے اجر عظیم

اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسولِ اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ قرآنِ کریم میں مردوں کا ذکر آتا ہے عورتوں کا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی"بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں،اور سچے مرد اور سچی عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اور گڑگڑانے والے مرد اور گڑگڑانے والی عورتیں، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، نفس کی حفاظت کرنے والے مرد اور نفس کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ ان سب کےلئے ﷲ تعالٰی نے آخرت میں بخشش اور اجرِ عظیم تیار رکھا ہے۔

2- جن لوگوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت دی ہے

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ عورتوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور مسلمان عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں کے سامنے ہوں۔ فرمایا عورتوں! ﷲ تعالٰی سے ڈرتی رہو بیشک ہر چیز اس کی نظر میں ہے۔

3- اللّٰہ اور اسکے فرشتے رسول کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں

اِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
اللّٰہ تعالٰی اپنے حبیب ﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بےشک ﷲ تعالٰی خود بھی اپنے حبیب ﷺ پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ہمیشہ آپﷺ کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں اس لیے ایمان والوں تم بھی رسول اللہﷺ پر ہمیشہ درود و سلام بھیجا کرو۔

4- مومن کو سیدھی بات کرنے کاحکم

اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! اللّٰہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی سچی بات کیا کرو تاکہ ﷲ تعالٰی تمھارے کام سنواردے اور تمھارے گناہ معاف کردے۔

5- انطاکیہ پر عذاب کا واقعہ

سورۂ یٰسین میں اللہ تعالٰی انطاکیہ کے رہنے والوں کی سرکشی کی مثال بیان فرمارہا ہے جب اللہ تعالٰی کے حکم سےحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انطاکیہ والوں کے پاس دو پیغامبر حضرت یحییٰ اور حضرت یونس علیہم السلام کو بھیجا قوم نے تکذیب کی اور بادشاہ نے قید کروادیا پھر حکمِ الٰہی سے تیسرا پیغامبر شمعون کو بھیجا گیا وہ بادشاہ سے ملے اور دعا کرکے نابینا کو بینا اور مردہ کو زندہ کردیا۔ کرامات دیکھ کر بادشاہ ایک جماعت کے ہمراہ ایمان لے آیا دونوں نبیوں کو رہا بھی کردیا۔ باقی لوگوں نے تکذیب کی اور کہا ہم تمھیں نامبارک سمجھتے ہیں اور تینوں کو سنگسار کردیں گے۔ اس پر شہر کے ایک کونے سے ایک صالح شخص حبیب نجار ڈوڑتا ھوا آیا اور اہلِ قوم سے کہا تم اللہ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ کے رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے۔ اہلِ قوم نے اس شخص کو ٹاٹ میں لپیٹا اور اتنا مروڑا کہ کچل کر مرگیا۔ حکمِ الٰہی سے اس کی روح جنت میں داخل ہوئی اس وقت اس نے تمنا کی کاش میری قوم اس عزت واحترام کو دیکھتی جو اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ نے مجھے بخشی ہے۔ حبیب نجار کی شہادت کے بعد ﷲﷻ نے ایک فرشتے کو بھیجا جس کی دہشتناک چیخ سے سب نافرمان ہلاک ہوگئے۔ 

(سورۂ الاحزاب، سورۂ السبا، سورۂ فاطر، سورۂ یٰسین)

اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ پارہ-21 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ھے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور ہمیشہ نماز کو قائم رکھیں کیونکہ وہ نماز جو کامل خشوع وخضوع سے ادا کی جائے گی اس کی تاثیر اور منشاء برائی اور بےحیائی کے کاموں سے روکنا ہے۔ اسکے علاوہ ذکر الٰہی بہت باعظمت عمل ہے۔

2- رزق و روزی اللہﷻ کے ذمہ ھے

ہجرتِ مدینہ کے وقت بعض لوگوں نے بے سرو سامانی اور محتاجی کا ذکر کیا تو ﷲ تعالٰی نے فرمایا کتنے جاندار کل کے لیے کچھ اکھٹا نہیں کرتے مگر ﷲ انہیں کھلاتا ہے وہ سب کا رازق ہے، جو جانوروں کو نہیں بھولتا تو اپنے فرمانبردار بندوں کو رزق دینا کیسے بھول سکتا ہے۔

3- إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں حضرت لقمان کی نصیحتوں کا ذکر کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں۔کہ بیٹا کسی کو ﷲﷻ کا شریک نہ ٹھہرانہ کیونکہ خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک ٹھہرانا بڑی ناانصافی کی بات ہے۔ اپنے والدین سے نیک سلوک کرنا۔ یقین جانو اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو اور کسی پتھر کے اندر یا آسمان یا زمین میں مخفی ہو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن لا حاضر کرے گا بے شک ﷲﷻ ہر چیز سے باخبر ہے۔ ہمیشہ نماز قائم رکھو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کا حکم اور برے کاموں سے روکتے رہو، مصیبت پر صبر کرنا، تکبر سے اترا کر مت چلنا، گفتگو کرتے ہوئے آواز دھیمی رکھنا کیونکہ مکروہ ترین آواز گدھے کی ہی ہے۔

4- لے پالک حقیقی بیٹا نہیں ہوسکتا

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ منہ بولے بیٹے صرف منہ بولے ہی ہوتے ہیں حقیقت میں وہ بیٹے نہیں بن جاتے کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کو اپنا بیٹا کہا تھا۔ عرب میں منہ بولے بیٹے، بیٹے کے حکم میں ہوتے تھے اور ان کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جاتا تھا جو اپنے حقیقی بیٹوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن کریم نے واضح کردیا کہ منہ بولے بیٹے، بیٹوں کے حکم میں نہیں آتے۔ اسکے علاوہ یہ تردید بھی کی ھے کہ ظہار یعنی بیوی کو ماں کی طرح کہنے سے وہ ماں نہیں بن جاتی اور ﷲ تعالٰی نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔

5- رزق کی فراخی اور تنگی اللہ ﷻ کے اختیار میں ہے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ یہ اسکے اختیار میں ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے مناسب سمجھے زرق و روزی بڑھادیتا ہے اور جس کے لیے مصلحت سمجھے کم کردیتا ہے۔ بےشک ﷲﷻ بندوں کی ضروریات سے خوب واقف ہے۔ لہذا روزی کی فکر سے احکامِ الٰہی میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

(سورہ العنکبوت, سورۂ الروم، سورۂ لقمن، سورۂ السجدہ)

أَمَّنْ خَلَقَ پارہ-20 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ھے؟

اللّٰہﷻ اپنی نشانیاں پیش کرتاہے کہ آسمان وزمین کو کس نے پیدا کیا، آسمان سے بارش کون برساتا ہے جس سے ہرے بھرے باغات پیدا ہوتے ہیں، زمین کو رہنے کی جگہ اور اس میں نہریں اور پہاڑ کس نے پیدا کئے، دو سمندروں کے درمیان کس نے پردہ حائل کیا کہ میٹھا اور کھارا پانی نہیں مل سکتے، جب کوئی مصیبت زدہ پکارتا ہے تو کون اسکی فریاد سن کر داد رسی کرتا ھے، کون خشکی اور تری کے اندھیروں میں راھ دکھلاتا ہے، کون ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے اور باران رحمت بھیجتا ہے ۔ تم غور وفکر کیوں نہیں کرتے۔ کیا ﷲ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ھے؟

2- میں ہی ﷲ سب جہانوں کا پروردگار ہوں

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام گھر والوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو راستے میں سردی کے باعث آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چلتے چلتے کوہِ طور کی ایک جانب آگ دیکھی اور انگارہ لینے چل پڑے۔ وادی طویٰ کے داہنے کنارے کی طرف سے ایک برکت والے مقام میں ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آرہی تھی مگر آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی، وہاں ایک آواز آئی اے موسیٰ! میں ہی ﷲ سب جہانوں کا پروردگار ہوں۔

3- خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے مدد کے طلب گار

اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جو لوگ ﷲ ﷻ کے سوا اوروں کو حمایتی بناتے ہیں ان کی مثال مکڑی کے جالے جیسی ہے۔ سب گھروں میں مکڑی کا گھر سب سے ناپائیدار ہوتا ہے۔ جس طرح اس کا جالا اس کی حفاظت نہیں کرسکتا اسی طرح انکے حمایتی بھی انکی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔

4- اہل مدین پر عذاب

اللّٰہ تعالٰی نے اہل مدین کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ جنہوں نے اپنی قوم کو ﷲﷻ کی عبادت کا حکم دیا اور اللہ ﷻ کے عذابوں اور سزا سے ڈرایا۔ مگر یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے، لوگوں کا حق مارتے، ڈاکے ڈالتے، اور راستے بند کرتے تھے۔ ساتھ ہی ﷲ تعالٰی اور اسکے نبی سے کفر کرتے تھے۔پھر ان پر زلزلے کا عذاب آیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

5- قارون کا واقعہ

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچازاد بھائی تھااور فرعون کا پیشکار تھا۔ اس نے بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرکے خوب خزانے جمع کئے۔ جن کی چابیاں اتنی وزنی تھی کہ کئ طاقتور مرد مشکل سے اٹھاتے تھے۔ جب اس کی قوم کے لوگ اسے مال ﷲﷻ کے لیے غریبوں اور محتاجوں پر خرچ کرنے کی تلقین کرتے تو وہ کہتا یہ مال میرے علم اور ہنر کی وجہ سے ملا ہے اس میں ﷲ تعالٰی کی عطا کا کوئی دخل نہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون سے زکوٰۃ ادا کرنے کیلئے زور دیا تو اس نے ایک عورت کو تیار کیا کہ حضرت موسیٰ پر بدکاری کا الزام لگائے۔ پس جب آپ وعظ فرمارہے تھے تو قارون نے پوچھا زنا کار کی کیا سزا ہے؟ آپ نے فرمایا 'رجم'۔ اس پر قارون نے اس عورت کو پیش کیا۔ مگر ﷲ ﷻکے حکم سے اس عورت نے قارون کی ساری سازش کھول دی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کے لیے بددعا کی جس کی وجہ سے ﷲ تعالٰی نے قارون، اسکے گھر اور خزانے سب کو زمین میں دھنسا دیا۔

(سورہ النمل، سورہ القصص, سورہ العنکبوت)

وَقَالَ الَّذِينَ پارہ-19مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قیامت کے دن ظالموں کاانجام

اللّٰہ تعالٰی قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ھوئے فرماتا ہے کہ جس دن آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اعمال نامے لے کر لگاتار اتریں گے۔ حکومت صرف ﷲ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ کی ہوگی یہ دن کفار پر بہت بھاری ہوگا۔ ظالم حسرت اور افسوس میں اپنے ہاتھوں کو چبائیں گے کہ ہائے رسولِ کریم ﷺ کی راہ لی ہوتی، ہائے کاش فلاں کو دوست نہ بنایا ھوتا کیونکہ اس نے مجھے گمراہ کردیا ورنہ کتاب حق تو میرے پاس آچکی تھی۔

2- قرآن کریم پس پشت ڈالنے والوں کے خلاف نبی کریم ﷺ کی شکایت

قیامت کے دن ﷲﷻ کے سچے رسولﷺ اپنی امت کی شکایت ﷲ تعالٰی کے حضور میں کریں گے کہ میری امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ نہ یہ لوگ قرآن مجید پڑھتے، نہ رغبت کے ساتھ سنتے اور اوروں کو بھی سننے سے روکتے تھے۔

3- مومن جاہلوں سے بحث نہیں کرتے

اللّٰہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ رحمٰن کے سچے بندے زمین پر انکساری کے ساتھ چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل ان سے بات کرتاہے تو بجائے تکرار، بحث ومباحثہ یا مناظرہ کے 'سلام' کہہ کر اپنی راہ لیتے ہیں۔

4- وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

اللّٰہ تعالٰی ہی انسان کو کھلاتا اور پلاتا ھے اور مومن اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ شفا دوائیوں میں نہیں بلکہ جب کوئی بیماری آتی تو شفا بھی اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔

5- حضرت سلیمان علیہ السلام کا چیونٹی کی بات پر تبسم

اللّٰہ تعالٰی نے اپنے بندے حضرت سلیمان علیہ السلام پر خاص فضل فرماتے ہوئے انہیں پرندوں اور حیوانوں کی زبانیں سکھادیں تھی ایک دن آپ اپنے لشکر کے ہمراہ جنگل سے گزر رہے تھے جہاں ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹی سے کہا جلد از جلد اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ ایسا نہ ہوکہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر ہمیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور ﷲ کا شکر ادا کیا جس نے یہ نعمت عطا فرمائی۔

6- حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا واقعہ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں توجہ کی تو ہد ہد کو نہ پایا، اس پر سخت ناراض ہوئے، جب وہ آیا تو کہا کہ میں ملک سبا کی خبر لایا ہوں وہاں ایک عورت بلقیس کی حکومت ہے اور وہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کی طرف خط ہد ہد کے ذریعے بھیجا اور شروع میں بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لکھی۔ پھر اسے ملاقات کے لئے حاضر ہونے کی دعوت دی۔ بلقیس نے تحائف دے کر قاصد کو حضرت سلیمان کے پاس بھیجا مگر آپ نے تحائف لینے سے انکار کردیا۔ اور لشکر کشی کا پیغام دیا۔ یہ سن کر ملکہ پریشان ہوئی تحائف اور سازوسامان لے کر حضرت سلیمان کے دربار کی طرف چل پڑی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اہل دربار سے پوچھا کہ کون ملکہ کا تخت دربار میں حاضر کرسکتا ہے۔ ایک جِن بولا میں دربار ختم ہونے سے پہلے تخت لاسکتا ہوں۔ اہل دربار میں سے (آصف بن برخیا، ولی اللہ تھے) جن کو کتاب الٰہی (اور اسم اعظم )کا پورا علم تھا بولے میں آنکھ جھپکنے سے پہلے ملکہ کا تخت لے آؤں گا پھر لے آئے۔ جب ملکہ آئی تو اپناتخت دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے دین حق کی دعوت دی اور غیر اللہ کی پرستش سے منع کیا۔ ملکہ بولی اے میرے رب سورج کی پرستش کرکے میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے رب پر ایمان لاتی ہوں۔

(سورہ الفرقان، سورہ الشعراء،سورہ النمل)

قَدْ أَفْلَحَ پارہ-18 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- جنت کے وارث کون لوگ ہیں

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ یہ وہ ایماندار لوگ ہیں جو اپنی نمازوں میں گڑگڑاتے(خشوع و خضوع اور توجہ سے ادا کرتے) ہیں، بیہودہ باتوں سے پرہیز کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی زوجات کے،امانتوں میں خیانت نہیں کرتے، عہد جو ﷲ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اور بندوں سے کرتے پورا کرتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ بہشت کے وارث ہیں اور اللہ تعالٰی کے فضل سے جنت الفردوس میں رہیں گے۔

2- گھروں میں داخلے کے آداب

یہاں پر شرعی ادب بیان ہو رہا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت مانگو جب اجازت مل جائے تو پہلے سلام کرو، اگر پہلی بار اندر سے اجازت طلبی پر جواب نہ ملے تو پھر کل تین مرتبہ اجازت مانگو(گھنٹی بجاؤ یا دروازہ کھٹکھٹاؤ یا آواز دو)، اگر پھر بھی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ یا اگر تم سے واپس جانے کو کہا جائے تو فوراً واپس چلے آؤ یہ تمھارے لیے بہتر اور پاکیزھ بات ہے۔

3- ہر چیز ﷲ تعالٰی کی تسبیح کرتی ھے

اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ زمین وآسمان کی کل مخلوقات انسان، جنات، فرشتے اور جانور یہاں تک کہ پر پھلائے پرندے سب کے سب اللہ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ کی تسبیح کرتے ہیں اور ہر مخلوق کو اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ معلوم ھے۔

4- پاک دامن پر تہمت کی سزا

جو لوگ کسی عورت یا مرد پر بدکاری کی تہمت لگائیں تو انہیں چار گواہ پیش کرنے ہوں گے اگر ایسا نہ کرسکیں تو الزام لگانے والے کو اسی (80) کوڑے لگاؤ آئندہ کے لیے اس کی گواہی قبول نہ کرو کیونکہ یہ لوگ ﷲﷻ کے نافرمان ہیں۔ ہاں جو لوگ توبہ اور اپنی اصلاح کرلیں تو اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔

5- مسلمان مرد اور عورت اپنی نگاہیں نیچی رکھیں

حکم الہٰی ہے کہ مسلمان مرد اور عورت اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔ جس کا بہترین طریقہ ہے کہ نگاہیں نیچی رکھیں اور جن چیزوں کا دیکھنا حرام ہیں ان پر نگاہیں نہ ڈالیں۔

6- برائی کی اشاعت حرام ہے

ارشادِ حق تعالیٰ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں برائی پھلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ اکثر ان میں سے سنی سنائی باتیں بیان کرتے ہیں، لوگوں کی عیب تلاش کرتے ہیں اور ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا ﷲ ﷻ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑجائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے۔

(سورہ مومنون، سورہ نور، سورہ فرقان)

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ پارہ-17 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قیامت قریب آگئی ہے

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ قیامت کی گھڑی جس میں اعمال کا حساب کتاب اور جزا وسزا ہوگی بہت قریب آگئی ہے مگر پھر بھی لوگ اس کی طرف سے بالکل غافل ہیں اور اس کی کوئی تیاری نہیں کرتے بلکہ اس کا ذکر سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں۔

2- كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ

اللّٰہ تعالٰی متنبہ فرما رہا ہے کہ ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ اور ہم انسان کو آزماتے ہیں کہ بھلائی اختیار کرتا ہے یا برائی کی راہ۔ سب نے آخر کار اللہ ہی طرف لوٹ کر جانا ھے۔

3- حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت توڑ دیئے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم جب بت پرستی سے باز نہ آئی تو کہا میں کچھ تدبیر کروں گا۔ جب اہل شہر میلے میں گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سارے بت توڑ دیے اور کلہاڑی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دی۔ جب قوم نے واپس آکر پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ تو آپ نے کہا بڑے بت سے پوچھ لو۔ مشرکین نے کہا یہ تو بول نہیں سکتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا پھر تم ایسے پتھروں کو کیوں پوجتے ہو جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

4- آتش نمرود حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی ہوگئ

بتوں کو توڑنے کی وجہ سے نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ سخت دہکتی آگ میں جب آپ کو ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آگ کی تاثیر کو سلب کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سرد وسلامتی والی بنادیا. قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ

5- حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری،صبر اور صحت

حضرت ایوب علیہ السلام دین حق کے مبلغ تھے۔ جب اللہ تعالٰی نے انہیں آزمایا تو انکے جسم میں کیڑے پڑگئے اور تمام مال و مویشی تباہ، بچے مکان کے نیچے آکر ہلاک، دوست و آشنا الگ ہوگئے سوائے بیوی کے۔ آپ نے صبر کیا اور رب کے حضور دعا کی " وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ" پھر خدا تعالٰی نے آپ کی دعا قبول کرکے صحت ،مال ودولت سے نوازا۔

6- حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام نینویٰ کی طرف مبعوث ہوئے تھے جب قوم نے دعوتِ حق کا انکار کیا تو انہوں نے بددعا کی اور وحی کا انتظار کئے بغیر ناراض ہو کر شہر سے چل پڑے۔ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو وہ ڈوبنے لگی۔کشتی والے نے کہا وزن زیادہ ہے ایک آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہیے تاکہ وزن کم ھو جائے جب قرعہ ڈالا تو تینوں بار حضرت یونس علیہ السلام کا نام ہی نکلا۔ آپ نے خود دریا میں چھلانگ لگا دی۔ اللہ تعالٰی کے حکم سے ایک مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ پھر اللہﷻ نے مچھلی کے پیٹ میں آپ کی دعا قبول کی "لا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ" اور مچھلی نے باہر اگل دیا۔ جب پوری قوم نے اجتماعی توبہ کرلی تو عذاب ان پر سے ٹل گیا۔

(سورہ انبیاء، سورہ حج)

Wednesday, 27 March 2024

قَالَ أَلَمْ پارہ-16 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات

حضرت موسیٰ علیہ السلام حسب ارشادِالٰہی اپنے خادم حضرت یوشع بن نون کے ہمراہ ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ ملاقات کے مقام کی نشانی یہ تھی کہ بھنی ہوئی مچھلی نے زندہ ہوناتھا۔ آخر دونوں کی ملاقات ہوگئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو جو علم اسرار تکوینیہ بخشا ھے کچھ مجھے بھی سکھادیں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا آپ صبر نہ کرسکیں گے۔ بہرحال دونوں ساتھ چلے اور تین واقعات پیش آئے۔ اول جس کشتی میں سوار تھے اس میں سوراخ کردیا دوئم ایک لڑکے کو قتل کردیا سوئم ایک دیوار جو گرنے والی تھی اس کو سیدھا کردیا۔ تینوں واقعات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش نہ رہ سکے۔ پر جاتے جاتے حضرت خضر علیہ السلام نے ان اسرار کی حقیقت ظاہر کردی۔ کشتی میں نقص اس لیے ڈالا کہ مالک مسکین لوگ تھے محنت مزدوری سے پیٹ پالتے تھے دریا کے دوسرے کنارے ظالم بادشاہ اچھی کشتیاں چھین رہا تھا اور عیب دار چھوڑ رہا تھا۔ لڑکے کے قتل وجہ یہ تھی کہ اس کے والدین مومن تھے اور لڑکے نے بڑا ہوکر گمراہ ہونا تھا اور والدین اس کی محبت میں کافر ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس کو قتل کرکے نیک اولاد عطا فرمائے۔ دیوار درست کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے مالک دو یتیم لڑکے ہیں اور والد بہت نیک آدمی تھا اس دیوار کے نیچے خزانہ دفن ہے ﷲﷻ نے یہ چاہا کہ جب یہ لڑکے جوان ہوجائیں تو اپنا خزانہ سنبھال لیں۔ اس لیے دیوار کی تعمیر ومرمت کی۔

2- سمندر سیاہی بن جائیں تو بھی رب کی تعریف نہیں لکھ سکتے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اے حبیب ﷺ کہہ دو کہ اگر میرے رب کی باتوں کو لکھنے کے لیے سات سمندر سیاہی بن جائیں تو وہ میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں گے چاہے اتنے ہی سمندر اور سیاہی بنادیے جائیں۔ مگر خدا کی معلومات ختم نہ ہونگی یعنی علم الٰہی کا احاطہ ناممکن ہے۔

3- ہر کوئی پل صراط پر سے گزرے گا

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ تم میں سے ہر ایک انسان کو ضرور دوزخ پر سے گزرنا ہوگا کیونکہ پل صراط دوزخ پر قائم کی جائے گی یہ بات ﷲ تعالیٰ کے یہاں طے شدہ ہے۔ پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے۔اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔

4- گھر والوں کو نماز کی تاکید کرنا

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اپنے گھروالوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیں۔ ہم آپ سے کوئی رزق تو نہیں مانگتے ہم تو بندگی چاہتے ہیں اور رزق تو ہم خود تمھیں دیتے ہیں۔اور نیک انجام تو پرہیزگاری پر مبنی ہے۔

5- ﷲ کی آیتوں سے منہ موڑنے کی سزا

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جو میری یاد (میرے ذکر) سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگی اور فکر معاش میں گزرےگی اور قیامت کے دن اندھا اٹھے گا۔ وہ کہے گا اے اللہ مجھے اندھا کیوں اٹھایا دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا۔ اللہ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ فرمائےگا تونے دنیا میں میری آیات کو بھلا دیا آج ہم نے تجھے بھلا دیا اور بینائی سے محروم کر دیا۔

6- ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کون ہیں

ذوالقرنین یعنی دو طرفوں والا چونکہ یہ بادشاہ دنیا کے دو کناروں مشرق اور مغرب تک جا پہنچا اس لئے اس کا لقب ذوالقرنین ہے۔ ﷲﷻ نے اس کو بڑی قوت بخشی یہاں تک کہ وہ سمندر کے کناروں تک جاپہنچا جہاں سے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا مشاہدہ کرتا تھا۔ جب وہ شمال کی طرف سفر کرتا ہوا دوپہاڑوں کےدرمیانی درے پر پہنچا تو وہاں ایک قوم نے درخواست کی کہ یاجوج ماجوج (بخاری ومسلم کے مطابق یہ بھی انسان ہیں) اس درے سے ہمارے ملک میں گھس کر تباہی کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد مچاتے ہیں آپ ہمارے اور ان کے درمیان دیوار بنادیں۔ اس پر ذوالقرنین نے لوہے کی چادروں سے ایک دیوار بنادی اور تانبا پگھلا کر ڈال دیا جو درزوں میں جاکر جم گیا۔ ذوالقرنین نے کہا ﷲ ﷻ کے فضل سے مجھ سے اتنا بڑا کام ہوگیا ھے لیکن قیامت کے قریب ﷲ ﷻکے وعدہ کے مطابق یاجوج ماجوج اس دیوار کو توڑ دیں گے۔ اور روئے زمین پر پھیل جائیں گے آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وبا پھوٹی گی اور سب ہلاک ہوجائیں گے اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔

(سورہ الکھف، سورہ مریم، سورہ طه)

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ پارہ-15 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- واقعہ معراج کا بیان

ﷲ ﷻ ہر نقص وعیب سے پاک ہے جس نے رسولِ اکرمﷺ کو ایک ہی رات کے ایک حصّہ میں براق پر سوار کرکے مسجد الحرام سے بیت المقدس تک طویل مسافت طے کروائی۔ وہاں آپ ﷺ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت کروائی۔ پھر وہاں سےآپ ﷺ نے سدرة المنتہیٰ تک سفر کیا اور مکالمہ الٰہی کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ کو پچاس نمازیں عطا فرمائی۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر آپ ﷺ بار بار اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کم کرواکر پانچ نمازیں کروالی۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا میری بات بدلتی نہیں۔ امت محمدﷺ پانچ نمازیں پڑھے گی مگر ثواب پچاس کا ہی ملے گا۔

2- والدین کا مقام اور حسنِ سلوک کا حکم

اللّٰہ تعالٰی کا حکم ہےکہ ماں باپ سے نیک سلوک کرو اور اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو انہیں بے ادبی سے اُف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب واحترام کے ساتھ پیش آؤ۔

3- فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ اپنے والدین سے نیک سلوک کے علاوہ اپنے قریبی رشتہ دار اور مسکین اور مسافر سے بھی نیک سلوک کرنا اور فضول خرچی سے بچنا لازم ہے۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نہایت ہی ناشکرا ھے۔ ہر کام میں میانہ روی کو پسند کیا گیا ہے۔

4- سورہ کہف کی فضیلت

مختلف احادیثِ مبارکہ میں اس سورت کی تلاوت کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ مستدرک حاکم میں ہےکہ "جس نے سورۂ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لیے دو جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے۔"

5- ہر کام سے پہلے انشاء اللہ کہنا چاہیے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ کسی بھی کام کے لئے یوں نہیں کہنا چاہیئے کہ میں اسے کل کرلوں گا۔مگر ساتھ ہی انشاء اللہ کہہ لینا چاہیے اگر بھول جائیں تو جب یاد آئےتو انشاء اللہ کہہ دے۔

6- اصحاب کہف کا تعارف اور قصہ

یہ چند نصرانی نوجوانوں کا قصہ ہےجو اپنے کافر بادشاہ وقیانوس کے زمانے میں ﷲ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ پر ایمان لائے۔ بادشاہ انہیں بت پرستی پر مجبور کر رہاتھا۔ بادشاہ نے انہیں سوچنے کی مہلت دی۔ چنانچہ وہ بھاگ کر ایک غار میں جاچھپے ۔لوگ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد تین، پانچ یا سات تھی اور ایک ان کاکتا بھی تھا۔ مگر ان کی اصل تعداد اللہ تعالٰی کو معلوم ہے۔ اللہ نے ان کو تین سو نو سال کے لیے سلادیا۔ جب وہ دوبارہ اٹھے تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ ﷲ نے اپنی نشانی کے طور پر دوبارہ زندہ کرکے دکھادیا۔

7- دوباغ والے آدمیوں کا واقعہ

عبرت کے لیے اللہ تعالٰی دو آدمیوں کا قصہ بیان کرتاہے ایک کے پاس دو انگوروں کے باغ چاروں طرف سے کھجور کے درختوں سے گھیرے ہوئے اور درمیان میں نہر جاری تھی۔ پھل کی کثرت تھی اپنے غریب دوست سے تکبر میں کہنے لگا میں تجھ سے زیادھ شان اور مال ودولت والا ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کبھی قیامت آئےگی یا یہ باغ برباد ہو سکتے ہیں۔ اوراگر میں مر بھی گیا تو اس سے بہتر ہی پاؤں گا۔ غریب مومن دوست نے سمجھایا کہ قادر مطلق سے ڈر۔ اگر میں غریب ہوں بھی تو وہی ہوتا ہے جو ﷲ کو منظور ہو۔ آخر آسمان سے بجلی گری اور دونوں باغ اور سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔ پس پھر پچھتانے اور اپنے ہاتھ ملنے لگا۔

8- حضرت موسیٰ اور خضر علیہ السلام کا واقعہ

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعظ کے درمیان کسی نے دریافت کیا کہ اس وقت سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ نے جواب دیا میں۔ اللہ تعالیٰ کو جواب نہ بھایا اور فرمایا ہمارا ایک بندہ خضر علیہ السلام خاص علوم میں تم سے بڑھ کر ھے۔ اس سے جاکر ملو۔ اس طرح دونوں کی ملاقات ہوئی۔

(سورہ بنی اسرائیل، سورہ الکہف)

رُبَمَا پارہ-14 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ

ارشادِ باری تعالٰی ہے " إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ " بلا شبہ ہم ہی نےاس قرآنِ مجید کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کے ایک حرف میں بھی فرق نہیں آیا۔

2- ﷲﷻ گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا

قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی کے رحم وکرم کا ذکر ہے کہ اگر لوگوں کے گناہ پر ﷲﷻ ان کی فوراً گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا۔ مگر اس نے ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دے رکھی ہے اور جب موت کا وقت آجائے گا تو ایک لمحہ بھی مہلت نہ ملے گی۔

3- شہد کی مکھی قدرت کا شاہکار ھے

اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں اور اونچے درختوں پر چھتے بنائے۔ پھولوں اور پھلوں سے رس چوسے۔ اس سے اسکے پیٹ میں مختلف رنگ کا شہد پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ اس میں نشانیاں ہیں غور وفکر کرنے والوں کے لیے۔

4- تلاوتِ قرآن مجید کے شروع میں تعوذ پڑھ لیں

اللّٰہ رب العالمین فرماتا ہے کہ پس آپ تلاوتِ قرآن مجید سے بیشتر " أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ " پڑھ لیا کریں کیونکہ جو لوگ اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ پر ایمان لاکر ہر کام میں اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔

5- دودھ ﷲ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے

ارشادِ باری تعالٰی ہے تمھارے لیے چوپاؤں (بھینس، گائے بکری وغیرہ) میں بھی بڑی نشانی ہے ہم تمھیں ان کے پیٹ میں جو کچھ ہےاسی میں سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والے کے لیے خوشگوار ہوتاہے۔

6- ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار

اللّٰہ تعالٰی بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو خشک مٹی سے جو سڑے گارے کی تھی پیدا کیا اور جنات کو آگ سے پیدا کیا۔ ﷲ ﷻ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں آدم کا پتلا تیار کرکے اس میں روح پھونکوں تو سب سجدے میں گر پڑنا۔ چنانچہ سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے صاف انکار کر دیا چونکہ ابلیس جنوں میں سے تھا مگر کثرتِ عبادت کی وجہ سے فرشتوں میں شامل ہوگیا تھا۔ اللہ تعالٰی نے پوچھا کہ تونے سجدہ کیوں نہیں کیا۔ اس نے جواب دیا کہ میں اس سڑی مٹی والے انسان سے بہتر ہوں۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا تو بہشت سے نکل جا، تو راندۂ درگاہ ہے۔اور تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت تک۔ شیطان نے کہا اچھا مجھے روز قیامت تک مہلت دے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا تجھے مہلت دے دی گئی ہے۔ شیطان بولا چونکہ تونے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور کیا ھے میں بھی اس کی اولاد (انسان) کو دنیا کی زندگی حسین و خوبصورت کرکے دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔ ہاں اس میں تیرے نیک بندے میرے جال میں نہ پھنسے گے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہاں میرے بندوں پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ تیرا زور صرف ان لوگوں پر چلے گا جو گمراہ ہونگے۔ اور گمراہ لوگوں کا ٹھکانہ تو دوزخ ہے جس کے سات دروازے (جہنم ، لظے، حطمہ، سعیر، سقر، جحیم، ہاویہ) ہیں اور ہر دروازے میں داخل ہونے کےلئے ایک خاص نامزد جماعت ہوگی۔ اور پرہیزگار تو بہشتوں اور رحمت کے چشموں میں داخل ہونگے۔

(سورہ الحجر، سورہ النحل)

وَمَاأُبَرِّى پارہ-13 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- قرآنِ مجید میں پرانے واقعات عبرت و نصیحت کےلئے بیان ہوتے ہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کا تمام قصہ بیان فرماکر کہ کس طرح بھائیوں نے جان تلف کرنی چاہی اور کس طرح ﷲ ﷻنے بچایا اور عزت دی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی اس جیسی اور مثالیں اور واقعات بیان کرتا ہے جیسے قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم شعیب اور اصحابِ کہف کے واقعات تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔

2- نبوت ورسالت مردوں میں ہی رہی ہے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ آپﷺ سے پہلے بھی جتنے نبی بھیجے وہ ان ہی بستیوں میں رہنے والے آدمی ہی تھے۔

3- اللہﷻ کی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ زمین میں کئی طرح کے ٹکڑے ہیں اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ان میں انگور کےباغ اور ہر قسم کی کھیتیاں اور کھجوروں کے درخت ہیں، بعض کی بہت سی شاخیں ہیں اور بعض کی کم۔ پانی سب کو ایک ہی ملتا ھے۔ اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔(جیسے میٹھے، کھٹے اورکڑوے،کوئی سرخ ،زدر، پیلا، سبز اندرسےلال وغیرہ) اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

4- کلمہ طیبہ اور شجر طیبہ کی مثال

کلمہ طیبہ لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی مثال پاکیزہ درخت کھجور سے دی ہے جس کی جڑ مضبوط اور شاخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں اور اللہ تعالٰی کے حکم سے ہر وقت خوب پھل لاتا ہے اور کلمہ کفر کی مثال خراب درخت یعنی حنظل جیسی ہے جس کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتی اور بڑی آسانی سے زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑا جاسکتا ہے۔

5- اہل جہنم کے لیے گندھک کا لباس

ارشاد باری تعالٰی ہے اس روز جس میں زمین وآسمان بدل دیے جائیں گے اور لوگ قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔مجرم لوگ زنجیروں میں جکڑے ہونگے اور ان کے کُرتے گندھک کے ہونگے اور ان کے چہروں کو آگ کی لپٹ نے گھیر رکھا ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

6- ظالم مشرک اللہ سے مہلت مانگیں گے

اللہﷻ فرماتا ہے آپ ﷺ ان لوگوں کو اس دن کے آنے سے پہلے ڈراتے رہیں کہ جس میں ان پر عذابِ الٰہی نازل ھوگا، پھر وہ کہیں گے خدایا ! ہمیں تھوڑی مدت اور مہلت دے کہ ہم دعوتِ اسلام قبول کریں اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں۔

(سورہ یوسف، سورہ الرعد، سورہ ابرھیم،سورہ الحجر)

وَمَامِن دَابَّةٍ پارہ-12 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- الله تعالیٰ ہی رازق وکفیل ھے

اللّٰہ تعالٰی کی ساری مخلوقات جو چھوٹی یا بڑی، خشکی یا تری میں ہیں، ہر جاندار کا رزق ﷲ ہی کے ذمہ ھے اور وہی جانتا ہے کہ زمین پر کہاں کہاں اس کا مسکن ھوگا اور مر کر وہ کہاں دفن کیا جائے گا اور یہ سب باتیں لوح محفوظ میں درج ہیں۔

2- دکھ درد میں صبر باعث مغفرت ھے

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ اگر ہم اسے نعمت عطا کرکے چھین لیں تو وہ سخت مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے، اور جب تکلیف کے بعد راحت دیں تو نعمت کاشکر ادا کرنے کے بجائے اترانے والا شیخی خورا بن جاتا ہے۔ پس جو لوگ مصیبت پر صبر کرکے اعمال صالحہ کرتے رہتے ہیں ﷲ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے یہاں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور نیکیوں پر بڑا اجر ہے۔

3- حضرت نوح علیہ السلام اور کشتی کا واقعہ

حضرت نوح علیہ السلام نے ﷲﷻ کے حکم سے ایک کشتی بنانی شروع کردی۔ جب ان کی قوم کے نافرمان سردار وہاں سے گزرتے تو مذاق اڑاتے۔ اور جب عذابِ الہٰی کا وقت آگیا تو آسمان سے موسلادھار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا۔ ﷲ تعالٰی کے حکم پر آپ نے ہر قسم کے جاندار کا ایک ایک جوڑا لے لیا۔ اندازے کے مطابق کشتی میں 72یا 78 یا 80 اہل ایمان مرد وخواتین تھے ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی واعلہ اور بیٹا کنعان شامل نہ تھا کیونکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے نہ تھے۔ کشتی ﷲ تعالیٰ کے حکم سے چلی اور جودی پہاڑ کے اوپر جاٹھری۔ حق کی تکذیب کرنے والے سب کے سب ہلاک ہوگئے۔

4- حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ

قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند وسورج ان کو سجدہ کررہے ہیں۔ جب آپ نے خواب والد کو سنایا تو والد نے منع کیا کہ خواب کا تذکرہ کسی سے نہ کریں کیونکہ کوئی حسد نہ کرے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھائ بنیامین تھے اور اس کے علاوہ دس سوتیلے بھائی بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام ان دو بیٹوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تدبیر سوچی اور حضرت یوسف علیہ السلام کو جان سے مارنے کے لیے کنؤیں میں ڈال دیا اور والد سے کہا کہ بھیڑیا کھاگیا۔ ایک قافلے والوں نے آپ کو نکالا اور بازار مصر میں فروخت کردیا۔ عزیز مصر نے خرید کر اپنی بیوی زلیخا کو دے دیا۔ جس نے بعد میں آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن ﷲ تعالٰی نے آپ کو ہر گناہ سے بچایا۔ مگر آپ کو قید خانے پہنچا دیا گیا۔ اللہﷻ نے آپ کو خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی تازی گائیں جن کو سات لاغر پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیاں ہری اور سات بالکل خشک۔ تعبیر کے لیے آپ کی نشاندھی ھوئی۔ اس پر آپ نے بتایا کہ سات سال بہت غلہ پیدا ہوگا اس میں سے بچاکر رکھو اور سات سال سخت قحط آئے گا۔اس میں وہ غلہ استعمال کرو۔ اس تعبیر کو جاننے کے بعد بادشاہ نے آپ کو اپنے پاس بلایا اور اس طرح اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ نے آپ کو عزت دی ۔

(سورہ ھود، سورہ یوسف)

يَعْتَذِرُونَ پارہ-11 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

1- اکثر انسان احسان فراموش ہیں

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ انسان ایسا احسان فراموش ہے کہ جب دنیا میں اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اپنی امداد کے لیے پکارتا ہے اور جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اپنے پہلے طریقہ غفلت میں چلا جاتا ہے۔

2- مومنوں سے جنت کا سودا

ﷲ تعالٰی نے مسلمانوں سے عہد کرلیا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں وہ اپنی جانیں اور مال قربان کرینگے تو ﷲ اس کے عوض انہیں آخرت میں بہشت دےگا۔ یہ وعدہ تورات اور انجیل میں بھی ہے۔ اور ﷲﷻ سے بڑھکر کون وعدہ پورا کرنے والاہے۔ 

3- مسجد ضرار کا بیان

منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانے اور ﷲ ورسول ﷺ کے دشمن ابو عامر راہب کے قیام اور اس کی تحریک سے مسجد قبا کے پاس ایک مسجد بنائی اور آپ ﷺ سے درخواست کی کہ جنگ تبوک سے واپسی پر اس میں نماز پڑھائیں، جس پر ﷲ تعالٰی نے چند آیات نازل کرکے ان کا نفاق ظاہر کردیا۔ آنحضرت ﷺ کے حکم پر اس مسجد جس کا نام مسجد ضرار تھا گرادیا گیا کیونکہ اس کی بنیاد تقویٰ پر نہیں تھی بلکہ نفاق پر تھی۔

4- اولیاءاللہ کی فضیلت

ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے کہ اولیاء ﷲ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد پرہیزگاری بھی اختیار کرتے ہیں چنانچہ جو پرہیزگار ہے ﷲﷻ کا دوست ہے اور جو اللہﷻ کے دوست ہیں قیامت کے دن میں نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔

5- کن نیک بندوں کے لیےجنت کی بشارت ھے

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے،سجدہ کرنے والے،نیک کاموں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے (یہی لوگ مومن ہیں اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو بہشت کی) خوشخبری سنادیں۔

(سورہ التوبة، سورہ یونس، سورہ ھود)