Wednesday, 23 September 2026

تہجد کی نیت کرکے سونے پر اجر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
رحمۃ للعالمین رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو آدمی بستر پر لیٹتے وقت نیت رکھتا ہو کہ رات کو ( نمازِ تہجد کے لیے ) اٹھے گا لیکن اسے گہری نیند آگئی اور وہ صبح تک سویا رہا تو اسکے لیے اس نماز کا ثواب لکھا جائے گا جسکی اس نے نیت کی اور اسکی نیند اسکے ربﷻ کی طرف سے اس پر نوازش ہوگی"۔

سنن النسائی 1788 (صحیح)

آخرت میں نیک بندوں کیلئے انعامات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
  
صادق و امین رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کرکے جمع کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان ( کے تصور ) کا گزر ہوا ، ( یہ ) ان ( نعمتوں کے ) علاوہ ہے جن کے بارے میں ﷲﷻ نے تمہیں مطلع کر دیا ہے"۔

صحیح مسلم 7133 (صحیح)

قیام اللیل کے آغاز کی دعائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
  
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے حجرے کے قریب سوتا تھا ۔ جب آپ ﷺ رات کو ( تہجد کے لیے ) اٹھتے تو میں سنتا کہ آپ ﷺ دیر تک ( سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) ’’ پاک ہے اللہ جو جہانوں کا رب ہے‘‘ پڑھتے رہتے ، پھر دیر تک ( سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهٖ ) ’’ ﷲﷻ تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور تمام تعریفوں والا ہے ۔‘‘ پڑھتے ۔ 

سنن النسائی 1619 (صحیح)

مذاق میں بھی جھوٹ کی ممانعت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
  
صادق و امین رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ” تباہی و بربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتا ہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے

جامع الترمذی 2315 (صحیح)

قانونِ شریعت سب کیلئے برابر ہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی ۔ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا ۔ اس عورت نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پناہ حاصل کرلی (اور حضرت اسامہ ؓ نے آپﷺ سے سفارش) ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر ( چوری کرنے والی ) فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔‘‘ پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ 

سنن النسائی 4895 (صحیح)

جمعہ کے لیے پیدل چلنے کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا : ’’ جو آدمی جمعے کے دن غسل کرے اور اپنے جسم وغیرہ کو اچھی طرح دھوئے اور اول وقت جائے ، خطبہ شروع سے سنے ، پیدل جائے ، سوار نہ ہو ، امام کے قریب بیٹھے ، خاموش رہے اور فضول بات نہ کرے ، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے عمل ( صیام و قیام ) کا ثواب ملے گا

سنن النسائی 1385 (صحیح)

گناہ پر مومن اور فاسق کی کیفیت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
مومن اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اسکے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے کہ وہ اسکی ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ کیا ( اڑا دیا) ۔

صحیح البخاری 6308 (صحیح)