Thursday, 8 October 2026

سچ کی تلقین، جھوٹ کی ممانعت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
   
رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جھوٹ سے بچو۔ بلاشبہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچانے والا ہے۔ بلاشبہ جو انسان جھوٹ بولتا ہو اور جھوٹ ہی کے درپے رہتا ہے تو وہ بالآخر اللہ کے ہاں کذاب ( انتہائی جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے۔ ( ہمیشہ ) سچ اپناؤ، سچ ( انسان کو ) نیکی کی رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں پہنچاتی ہے۔ اور جو شخص سچ بولتا اور سچ کے درپے رہتا ہے تو وہ بالآخر اللہ کے ہاں صدیق ( انتہائی سچا ) لکھ دیا جاتا ہے"۔  
سنن ابوداؤد 4989 (صحیح)

صف اوّل ، عشاء اور فجر کی اہمیت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
   
نبي رحمت ﷺ نے فرمایا: ’’اگر لوگ اذان اور صف اوّل کی فضیلت کے بارے میں جان لیں پھر اگر انہیں اسکے حصول کے لیے قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں، اور اگر وہ نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کے بارے میں جان لیں تو وہ اسکی طرف ضرور سبقت حاصل کریں، اور اگر انہیں نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کی اہمیت کاپتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے

مشکوة 628 (متفق علیہ)

دُعا مانگ کر مایوس نہ ہو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
   
رحمۃ للعالمین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے ایک کی دُعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے ۔ یعنی یوں کہے کہ میں نے دُعا کی مگر قبول نہیں ہوئی"۔  

سنن ابوداؤد 1484 (صحیح)

میت کی خوبیاں بیان کرنے کا حکم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
صادق و امین رسول کریم ﷺ ‌ایک جنازے میں نكلے تو لوگوں نے اسكے بارے میں تعریفی كلمات كہے، اور اسكی (میت کی) تعریف كی۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: یہ آدمی ایسا نہیں تھا جیسا یہ لوگ ذكر كر رہے ہیں ، لیكن تم لوگ اِس زمین پر ﷲﷻ كے گواہ ہو ، اللہ تعالٰی نے اسكے وہ گناہ معاف كر دیئےجن كے بارے میں یہ لوگ لا علم ہیں

السلسلۃ 3247 (صحیح)

یتیم کی دیکھ بھال پر اجر - جنت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اپنے یتیم یا غیر کے یتیم کی دیکھ بھال کی، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے اسے اس سے مستغنی کردیا، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔

السلسلۃ 1988 (صحیح)

صلاةِ توبہ ۔ گناہوں کا کفارہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبي رحمت ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ ایسا نہیں جو کوئی گناہ کر بیٹھے پھر وضو کرے اچھی طرح ، پھر کھڑا ہو اور دو رکعتیں پڑھے اور ﷲﷻ سے استغفار کرے ، مگر اللہ اسے معاف کردیتا ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ "متقی وہ لوگ ہیں جو اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کریں یا اپنی جانوں پر کوئی ظلم کر بیٹھیں ، تو اللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ اور اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ بخش دے ۔ اور یہ لوگ جانتے بوجھتے اپنے کیے پر نہیں اڑتے اور نہ اصرار کرتے ہیں"۔ 

سنن ابوداؤد 1521 (صحیح)

آخر رات میں دُعا کی اہمیت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دُعا کرنے والا ہے کہ میں اسکی دُعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اسکو بخش دوں"۔

صحیح البخاری 1145 (صحیح)