Monday, 3 August 2026

حُسنِ سلوک اور شفقت کا حکم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی ( یا ہمسایہ ) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے"۔

مشکوٰۃ 4961 (متفق علیہ)

توبہ واستغفار کرنے میں دیر مت کرو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رحمۃ للعالمین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : جب کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اسکے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کا دل پھر سے صاف روشن ہو جاتا ہے، ورنہ جتنے گناہ بڑھتے جاتے ہیں اتنے ہی سیاہ دھبے بڑھتے جاتے ہیں، حتّیٰ کہ اسکے دل پر وہ زنگ چھا جاتا ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے ۔ ﴿ كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴾  یوں نہیں بلکہ انکے دلوں پر انکے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔

مسند احمد 7939 (صحیح )

سود اور سود خوری کا انجام - ذلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مخبر صادق رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا :  بے شک سود خواہ کتنا بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس کا انجام فقرو ذلت ہے ۔

مشکوٰۃ 2827 (صحیح )

جمعہ کے دن سورة الکہف پڑھو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکہف پڑھتا ہے تو اُسکے لیے دو جمعوں کی درمیانی مدت کے لیے نُور چمکتا رہتا ہے"۔

مشکوٰۃ 2175 (صحیح )

ملازم کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رحمۃ للعالمین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لائے جس کی گرمی اور تکلیف اس نے برداشت کی ہو، اگر اسے کھانے کے لئے اپنے پاس نہ بٹھائے تو اسے ایک لقمہ ہی دے دے۔

السلسلۃ 19 (صحیح )

ایمان کا کمزور ترین درجہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص بُرائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر وہ طاقت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان سے ، اگر وہ (اسکی بھی) استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنے دل سے (بدلنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اس سے نفرت رکھے) ، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے" ۔

مشکوة 5137 (صحیح )

منکرین حدیث کے لیے تنبیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 صادق و امین رسول کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ عنقریب ( ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ) آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوگا ، اسے میری کوئی حدیث سنائی جائے گی تو کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان ( فیصلہ کرنے والی ) ﷲﷻ کی کتاب ( قرآن ) ہے ۔ ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی ، اسے حلال مانیں گے ، اور جو چیز اس میں حرام پائیں گے ، ہم اسے حرام قرار دیں گے ۔ سن لو ! جو کچھ اللہ کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا ، وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح اللہ کا حرام کیا ہوا"۔ 

سنن ابن ماجہ 12 (صحیح )