Showing posts with label Al Quran. Show all posts
Showing posts with label Al Quran. Show all posts

Thursday, 3 September 2026

باوضو ذکر کرکے سونے کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : " جو مسلمان باوضو ہوکر ﷲﷻ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے، پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہوکر اللہ تعالٰی سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے ، اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے"۔

مسند احمد 22465 (صحیح)

Monday, 3 August 2026

توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ھے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایک شخص رسولِ کریمﷺ كے پاس آیا اور كہا: آپﷺ كا كیا خیال ہے، اگر ایک آدمی نے تمام گناہ كئے ہوں اور كوئی گناہ نہ چھوڑا ہو، اور اس نے اپنی کوئی خواہش نہ چھوڑی ہو تو كیا اس كے لئے توبہ ہے؟ آپﷺ ‌نے فرمایا: كیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ اس نے كہا:”اشہد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریك لہ وانك رسول اللہ“ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم نیک كام كرو اور بُرے كام چھوڑ دو، اللہ ان تمام گناہوں كو تمہارے لئے نیكی بنادے گا۔ اس نے كہا: میرے دھوكے اور میری سركشیاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس نے بے ساختہ كہا: اللہ اكبر اور اللہ اكبر كہتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

السلسلۃ 3663 (صحیح )

Saturday, 30 May 2026

قربانی نہ کرنے والوں کےلئے وعید

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

خَاتَمُ الْمُرْسَلین رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت (گنجائش) ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے۔

سنن ابن ماجہ 3123 (صحیح)

Sunday, 15 February 2026

بخار کو بُرا بھلا مت کہو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ کے پاس بخار کا ذکر کیا گیا تو کسی آدمی نے اسے بُرا بھلا کہا ، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :  اسے بُرا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔

مشکوٰۃ 1583 (صحیح)

Monday, 13 October 2025

جادو کرنے یا کروانے کی ممانعت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
مُخبرِ صادق حضرت محمد مصطفٰیﷺ سے جادو ، منتر (سفلی عمل کو سفلی علم سے دور کرنے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:  وہ شیطانی عمل ہے۔

مشکوٰۃ 4553 (صحیح)

Wednesday, 10 September 2025

مسنون و مقبول دُعا


بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صادق و امین رسولِ کریم ﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دُعا کیا کرتے تھے:

للَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا

’’ اے اللہ ! میں تجھ سے نفع بخش علم، مقبول عمل اور حلال رزق کا سوال کرتا ہوں۔‘‘

مشکوٰۃ 2498 (صحیح)

Wednesday, 23 July 2025

زیادہ باتونی شخص کے لیے وعید

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اِمامُ الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا:  ﷲ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو، کیونکہ ﷲ کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں کرنا دل کی قسادت (سختی) کا باعث ہے اور سخت دل شخص ﷲﷻ سے کوسوں دور ہے

مشکوٰۃ 2276 (صحیح)

Wednesday, 9 July 2025

یومِ عرفہ کے روزہ کی فضیلت

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریمﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ایک گزشتہ سال کے گناہوں کا۔

مسند احمد 3979 (صحیح)

Monday, 13 January 2025

صلہ رحمی کرنے کا اجر و انعام

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا رزق فراخ کردیا جائے اور اس کی عمر دراز کردی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔

مشکوٰۃ 4918 (متفق علیہ)

Saturday, 14 December 2024

نماز کے الفاظ پر غور کرنے کی تلقین

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صادق و امین رسولِ کریم‌ ﷺ نے فرمایا: نمازی اپنے رب سے کلام کرتا ہے، پس اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ اسکے ساتھ کیا کلام کر رہا ہے؟ ایک دوسرے کے پاس( نماز میں) بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کرو۔

مشکوٰۃ 856 ( صحیح)

Saturday, 29 June 2024

جمعہ کے روز درود پڑھنے کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: دِنوں میں افضل ترین جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور فوت کیا گیا، اور اسی میں نَفْخَہ اولٰی ہوگا، لہٰذا تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا یہ درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا: اے اللّٰه کے رسولﷺ ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپﷺ تو (مٹی میں) فنا ہوچکے ہوں گے؟ آپ ‌ﷺ نے فرمایا: اللّٰه تعالٰی نے زمین پر حرام کردیا کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔  

مسند احمد 2701 (صحیح)

Friday, 26 April 2024

عَمَّ پارہ-30 مختصر مضامین

 أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- روز قیامت کوئی سفارش نہ کرسکے گا

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن انسان اور فرشتے صفیں بناکر دربار الٰہی میں کھڑے ہونگے اور خوف الٰہی سے بات تک نہ کرسکیں گے۔ وہی بات کرسکے گا جس کو اللہ رحمن حکم دے گا۔ وہ شفاعت کے بارے میں اچھی اور معقول بات کرے گا یعنی اسی کی سفارش کرےگا جس نے دنیا میں لاالٰہ الااللہ پڑھا اور اس پر عمل کیا ھوگا۔

2- روح نکالنے والے فرشتے

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ فرشتے جو اس کام پہ مامور ہیں بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہوئے جسم سے نکالتے ہیں جیسے کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں اور جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے اور بعض کی روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جسے کسی کے بند کھول دیے جائیں۔ جب رب کا حکم آجاتا ہے تو روح قبض کرنے والے فرشتے لمحہ بھر بھی دیر نہیں لگاتے۔

3- ایک نیکی کا سوال ہے

جب کانوں کو بہرا کرنے والا قیامت کا شور ھوگا تو اس دن بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا کچھ ہمدردی نہ کرے گا۔ ماں باپ سے بھاگے گا۔ بیوی بچوں سے دور بھاگے گا۔ کوئی کسی کو ایک نیکی دینے کو تیار نہ ھوگا۔ اس دن سب کو اپنی اپنی جانوں کی پڑی ھوگی۔

4- سجین اور علیین

نافرمانوں، کفار اور شیاطین کے اعمال نامے سجین میں ہیں۔ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے علیین میں ہیں۔ علیین ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنین کی روحیں ہیں۔

5- ابرہہ کا واقعہ

جس نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبةاللہ کو گرانے کے لئے چڑھائی کی تھی۔ تدبیر یہ کی تھی کہ آٹھ یا بارہ اونچے اور موٹے ہاتھی لیے اور مضبوط زنجیریں، تاکہ کعبہ کو زنجیروں سے باندھ کر ہاتھی کھینچیں گے اور وہ گرجائے گا۔ اللہ تعالٰی نے ابابیلوں کو بھیجا جن کی چونچ پرندوں جیسی، پنچے کتوں جیسے اور سر درندوں جیسے تھے۔ ان پرندوں نے پتھراؤ کیا جس کو پتھر لگا وھ دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس طرح ﷲﷻ نے ابرہہ کے لشکر کو شکست دی۔

6- نہر کوثر

معراج کی رات رسول اکرم ﷺ نے آسمان پر جنت میں اس نہر کو دیکھا اور جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کونسی نہر ہے! تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا یہ کوثر ہے جو اللہ تعالٰی نے آپﷺ کو عطا کی ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہونگے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہونگے۔ جس پر قیامت کے دن حضور پاک ﷺ کے امتی آئیں گے۔ بعض کو ہٹایا جائے گا تو میں ﷺ کہوں گا اے رب! یہ میرے امتی ہیں، تو کہا جائے گا آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا بدعتیں نکالی تھیں۔

7- ہلاکت کن لوگوں کے لئے ہے

جو قیامت کے دن کوجھٹلاتا ہے۔ جو غریب، یتیم، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا اور حسن سلوک نہیں کرتا۔ نہ خود دیتا ہے اور نہ اوروں کو کار خیر پر آمادہ کرتا ہے۔ جو نمازوں کو مکروہ وقت میں جلدی جلدی پڑھتا ہے جیسے مرغ ٹھونگیں مارتا ہے اس میں خشوع وخضوع اور اللہ کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔یہ صرف دکھاؤے کی نماز ہوتی ہے۔ ہمسائے اور ضرورت مند اگر عام استعمال کی کوئی چیز کچھ وقت کے لیے مانگیں تو انکار کر دیتا ہے۔

8- سورۂ اخلاص تہائی قرآن ہے

مشرکین نے حضور ﷺ سے کہا کہ اپنے رب ﷻ کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو تو یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھاری پڑا اور عرض کی بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو! یہ سورت (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔۔۔) تہائی قرآن ہے۔

9- معوذتین کا پڑھنا جادو وغیرہ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

کسی یہودی نے نبی کریم ﷺ پر سحر کردیا تھا جس سے سہو اور نسیان کی حالت ہوگئی۔ اس کا اثر ختم کرنے کے لیےﷲﷻنے آپﷺ پر یہ دو سورتیں (الفلق، الناس) نازل کیں۔ آپﷺ یہ آیات پڑھتے جاتے تھے اور آپ ﷺ کی حالت بہتر ہوتی جاتی تھی اور آیات کے خاتمہ پر آپ ﷺ بالکل تندرست ہوگئے۔

(سورۂ النبا، النزعت، سورۂ عبس، سورۂ التکویر، سورۂ الانفطار، سورۂ المطففین، سورۂ الانشقاق سورۂ البروج، سورۂ الطارق، سورۂ الاعلے، سورۂ الغاشیة، سورۂ الفجر، سورۂ البلد، سورۂ الشمس، سورۂ الیل، سورۂ الضحی، سورۂ الم نشرح، سورۂ التین، سورۂ العلق، سورۂ القدر، سورۂ البینة، سورۂ الزلزال، سورۂ العدیت، سورۂ القارعة، سورۂ التکاثر، سورۂ العصر، سورۂ الھمزة، سورۂ الفیل، سورۂ قریش، سورۂ الماعون، سورۂ الکوثر، سورۂ الکافرون، سورۂ النصر، سورۂ اللھب، سورۂ الاخلاص، سورۂ الفلق، سورۂ الناس)

تَبَارَكَ الَّذِي پارہ- 29 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1 - سورۂ ملک کی فضیلت

حضور کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قرآنِ مجید میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے وہ سورت (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۔۔۔)ہے۔ 
ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابنِ ماجہ، مسند احمد۔

2- اگر ﷲﷻ زمین میں پانی خشک کردے تو کون تمہیں پانی دے سکتا ہے؟

اللہ تعالٰی پوچھتا ہے کہ پانی جس پر زندگی کا دارومدار ہے زمین میں خشک ہوجائے، یا زمین کی تہوں میں گہرا اتر جائے اور تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو اللہﷻ کےسوا کون تمہیں پانی دے سکتا ہے؟
(حدیث مبارکہ میں اس کا جواب ﷲ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ آیا ھے)

3- ﷲ تعالٰی کو قرض دو

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اپنا مال ﷲﷻ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کرتے رہو، جو اللہ تعالٰی کو قرض حسنہ دے گا اللہ تعالٰی اسے اس سے بہت بہتر اور بڑھا چڑھا کر واپس دے گا۔

4- بد بخت انسان کی صفات

بدبخت اور بد نصیب شخص بہت زیادہ قسمیں کھانے والا، طعنے دینے والا، چغلی کرنے والا، بھلائی اور نیکی سے روکنے والا، سخت مزاج اورحد سے بڑھنے والا ہے۔

5- مجرم قیامت کے دن سجدہ نہ کر پائیں گے

قیامت کے دن جب اللہ تعالٰی اپنی تجلی دکھائیں گے تو ہر مومن مرد اور عورت سجدہ میں گر پڑیں گے۔ مگر جو لوگ دنیا میں سجدہ نہ کرتے یا دکھانے کے لیے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے مگر ان کی کمر تختہ کی طرح ہوجائے گی اور سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان پر ذلت چھاجائیگی اور آنکھیں ندامت سے جھک جائیں گی۔

6- مسکینوں کو ان کے حق سے محروم نہ رکھو - سبق آموز واقعہ۔

اللّٰہ تعالٰی باغ والوں کی آزمائش کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ جب انہوں نے سوچا کہ ہم صبح سویرے آکر غریبوں اور مسکینوں کے آنے سے پہلے سارا پھل توڑ لیں گے۔ اور انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ پس جب رات کو وہ سوئے تو حکم الٰہی سے آگ نے سارا باغ جلا کر راکھ کا ڈھیر کردیا۔ پس صبح ہوتے ہی تینوں بھائی ایک دوسرے کو جگانے لگے اور اٹھ کر باغ کی طرف روانہ ہوئے اور آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے تھے کہ آج کوئی محتاج گھسنے نہ پائے گا اور ہم سارا پھل توڑ لیں گے۔ جب وہاں پہنچے تو باغ راکھ کا ڈھیر تھا۔ کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں یہ تو ہمارا باغ نہیں ہے۔ پس جب یقین آگیا کہ وہی جگہ ہےتو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
  
(سورۂ المک، سورۂ القلم، سورۂ الحاقہ، سورۂ المعارج، سورۂ نوح، سورۂ الجن، سورۂ المزمل، سورۂ المدثر، سورۂ القیالدھر، سورۂ الدھر، سورۂ المرسلت)

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ پارہ-28 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- اللہﷻ ہر وقت تمھارے ساتھ ہوتا ہے

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ کیا تونے دیکھا کہ اللہ لَطِیفٌ خَبِیرٌ زمین وآسمان کی ہر چیز سے واقف ہے، جب تین لوگ مشورہ کرتے ہیں تو چوتھا اللہﷻ ہوتا ہے۔ اور جب پانچ مشورہ کریں تو چھٹا اللہﷻ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے اللہ تعالٰی قیامت کے دن بتادے گا۔ بے شک وہ ہر چیز سے واقف ہے۔

2-سرگوشی کے احکام

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اے ایمان والو! جب تم آپس میں کوئی سرگوشی کرو تو گناہ،سرکشی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو۔ ہاں اگر سرگوشی کرو تو نیکی اور پرہیز گاری کی کیا کرو۔ بے شک گناہ کی سرگوشی تو شیطان کا کام ہے۔ رسولِ کریم ﷺ نے  فرمایا "جب تم تین آدمی ہو تو، دو مل کر آپس میں کان میں باتیں نہ کرنے بیٹھ جاؤ۔ اس سے تیسرے کا دل میلا ہوگا

3- انسان کیسا سخت دل ہے

خالق کائنات فرماتا یے کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے اور اسے سوچنے اور سمجھنے کی استعداد عطا کرتے تو تم دیکھتے کہ خوف خدا سے پہاڑ پھٹ جاتا، مگر انسان کیسا سخت دل ہے کہ اس پر کچھ اثرنہیں ہوتا پھر فرماتا ہےکہ یہ مثالیں ہم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ غور وفکر کریں۔

4- اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا بیان

اللّٰہ تعالٰی اپنے صفاتی ناموں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اسی کے لیے سب اچھے اچھے نام ہیں، ہر چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی ہی پاکی بیان کرتی ہے۔ بخاری ومسلم شریف میں حدیث ہے کہ اللہ ﷻ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں شمار کرکے یاد رکھ لے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

5- وہ بات کیوں کہتے ہو جو  کرتے نہیں

اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔ کسی بات کو منہ سے کہہ کر اس پر عمل نہ کرنا اللہ عزوجل کو سخت ناپسند ہے۔ ابوداؤد میں حدیث ہے کہ ایک ماں نے بچے کو بلایا کہ آؤ میں کچھ دوں گی آپﷺ نے پوچھا کیا تو واقعی کچھ دینا بھی چاہتی ہے، عورت نے کہا جی ہاں کھجوریں، آپ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے ورنہ تیرے اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔

6- نماز جمعہ کی فضیلت

سورۂ جمعہ میں ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ ایک دفعہ حضور پاکﷺ جمعہ کا خطبہ فرمارہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ غلہ لے کر آگیا تو سب دوڑ کر باہر چلے گئے صرف بارہ لوگ خطبہ سنتے رہ گئے۔ اس پر حکم الٰہی نازل ہوا کہ مسلمانو! جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے آذان ہوجائے تو اللہ ﷻ کے ذکر کی طرف جلدی آیا کرو اور خریدوفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے حق میں بہتر ہے اگر  تم سمجھو ۔ ہاں جب نماز ہوجائے تو پھر اپنا کاروبار کرسکتے ہو۔

7-جہنم سے بچو اور گھر والوں کو بھی بچاؤ۔

حکم الٰہی ہے کہ اے ایمان والو! خود کو اور اپنے اہل وعیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ خود بھی فرمانبرداری کرو اور ان کو بھی تاکید کرو۔ایک اور جگہ فرمایا: کہیں تمھارے مال اور تمھاری اولاد ہی نہ تمہیں اللہ ﷻ کے ذکر سے غافل کردیں اور جو ایسا کرے گا وہی نقصان اٹھانے والا ھے۔

(سورۂ المجادلہ،سورہ الحشر, سورۂ الممتحنہ، سورۂ الصف، سورۂ الجمعہ، سورۂ المنافقون، سورۂ التغابن, سورۂ الطلاق، سورۂ التحریم)

Saturday, 6 April 2024

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ پارہ- 27 مختصر مضامین

 
أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قرآن کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا ہے، تو کیا کوئی ہے جو سمجھے؟

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ قرآنِ مجید میں جتنے مضامین نصیحت سے متعلق ہیں اُن سب کا اسلوبِ بیان نہایت آسان اور قابل فہم ہےجو بھی نصیحت حاصل کرنا چاہے باآسانی سمجھ کر نصیحت حاصل کرسکتا یے اور اپنی اصلاح کرسکتا ہے۔ پھر رب العالمین فرماتا ہے کہ "کیا کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے؟"

2- ﷲﷻکی نعمتوں کو نہ جھٹلا سکو گے

اللّٰہ تبارک وتعالٰی جنوں اور انسانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ تم اپنے ربﷻکی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ یعنی تم اس کی نعمتوں میں سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہو اور ان نعمتوں اور نظامِ قدرت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کرسکو۔

3- دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے

اللّٰہ تعالٰی خوشخبری سنا رہا یے کہ قیامت کے دن جن لوگوں کو ان کے اعمال نامے (رزلٹ کارڈ) دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ خوش نصیب جنت اور اسکی نعمتوں کے حقدار ہونگے اور جن لوگوں کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ دوزخ اور اسکے عذابوں کے مستحق قرار پائیں گے۔

4- قیامت کے دن کا منظر

اللّٰہ تعالیٰ قسم کھاکر بیان کرتا ہے کہ پروردگار کا عذاب آکر رہے گا، اور اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جس دن آسمان تھرتھرائے گا، پہاڑ اون کی طرح اڑنے لگیں گے، خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے زندگی کھیل کود میں گزاری، اس دن فرشتے دھکے دے دے کر ان کو آتش جہنم کی طرف لے جائیں گے اور کہیں گے یہ وہ آگ ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

5-قیامت کے روز مومنوں کے لئے نور ہوگا

ارشادِ حق تعالیٰ ہے کہ قیامت کے دن ایماندار مرد اور عورتوں کو نیک اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے آگے اور دائیں دوڑ رہا ہوگا(اور پل صراط پر روشنی بنے گا)۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ بعض کا نور پہاڑوں کے برابر، بعض کا کھجور کے درختوں کے برابر، بعض کا انسانی قد کے برابر اور سب سے کم نور جس گنہگار مومن کا ہوگا اس کے پیر کے انگوٹھے پر ہوگا جو کبھی روشن اور کبھی بجھتا ہوگا۔

6- دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سودا ہے۔

خالق کائنات فرماتا ہے کہ جان لو دنیا کی زندگی جو اللہ ﷻ اور رسول ﷺ کی مرضی کے خلاف بسر کی جائے محض بچوں کا کھیل تماشا ہے۔ عورتوں کا بناؤ سنگھار اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی کثرت طلب کرنا بالکل اس بارش جیسا ہے جس سے نباتات اُگتی ہیں تو کسان خوش ہوجاتے ہیں پھر خشک ہوکر چورا چورا اور برباد ہوجاتی ہے۔ آخرت میں ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ سخت عذاب ہے۔ اسکے برعکس اطاعتِ خداﷻ و رسولﷺ اور ذکر الٰہی میں زندگی بسر کرنے والوں کے لیے بخشش اور رب کی خوشنودی ہے۔

(سورۂ الذریت، سورۂ الطور، سورۂ النجم، سورۂ القمر، سورۂ الرحمن، سورۂ الواقعة، سورۂ الحدید)

حٰمٓ پارہ-26 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- حضور اکرم ﷺ جنات کے بھی نبی ہیں

نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد جب جنوں کو پہلے آسمان پر جاکر چوری چُھپے باتیں سننے اور خبریں لانے سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس کی وجہ دریافت کرنے کے لئے سات جنوں کی ایک جماعت کو زمین پر بھیجا جب یہ وادی نخلہ میں پہنچے تو حضورِ اکرمﷺ طائف سے واپسی پر نماز عشاء ادا کررہے تھے، جنوں نے قرآن مجید کی قرأت سنی تو آپﷺ پر ایمان لاکر واپس لوٹ گئے۔

2- کافروں کے لیے صرف دنیا کا فائدہ ہے

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالٰی انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا ہی کا) فائدہ اٹھارہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا رہے ہیں انکا اصل ٹھکانہ جہنم ہے۔ ازروئے حدیث مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔

3- قرآنِ عظیم پر غور وفکر نہ کرنے والوں کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں

اللہ تعالٰی اپنے کلام پاک میں غور وفکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت کرتاہے اور اس سے بے پرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ اور فرماتا ہے پس کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں میں تالے لگ گئے ہیں؟

4- اپنی آوازیں رسولِ کریمﷺ کی آواز سے پست رکہو

اللّٰہ تعالٰی امتیوں کو نبی ﷺ کےآداب سکھاتا ہے کہ مسلمانوں اپنی آواز نبیﷺ کی آواز سے بلند نہ کیا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور سے بولتے ہو، اس بے ادبی کی وجہ سے کہیں تمھارے اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔

5- گمان اور غیبت سے بچو

حکم الٰہی ہے مسلمانو! مسلمانوں کے بارے میں گمان کرنے سے پرہیز کیا کرو کیونکہ بعض گمان مثلآ نیک کے بارے میں بُرا گمان گناہ ہے۔ اور نہ کسی کی عیب جوئی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو، تم میں سے کون اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ ہر گز نہیں بلکہ غیبت اس سے بھی بُری حرکت ہے۔ اللہﷻ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کریم معاف فرمانے والا ہے۔

6- إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے تمھیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا۔ پھر شاخیں اور قبیلے بنادیے تاکہ تم آپس میں پہچان رکھ سکو۔ اللہﷻ کے نزدیک تم میں سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔مسلم شریف کی حدیث کے مطابق اللہﷻ تمھاری صورتیں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔

(سورۂ الاحقاف، سورۂ محمدﷺ، سورۂ الفتح، سورۂ الحجرات، سورۂ ق، سورۂ الذریت)

اِلَیۡہِ یُرَدُّ پارہ-25 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- دنیا کا طالب اور آخرت کو چاہنے والا

اللّٰہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے، بڑا طاقتور، غالب اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ جو شخص اپنے نیک عمل کا اجر آخرت میں چاہتا ہے وہ اس کا اجر آخرت میں زیادہ کر دیتا ہے، اور جو اس عمل سے دنیا کا اجر چاہتا ہے وہ اسے دنیا میں ہی اجر دیدیتا ہیں اور آخرت میں اس کو اجر سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

2- مصیبت اور پریشانی گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ اے لوگوں! تمھیں جو بھی دنیا میں مصیبت پہنچتی ہے وہ تمھارے ان اعمالِ بد کی شامت ہوتی ہے جو تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ "مومن کو جو تکلیف، سختی، غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالٰی اس کی خطائیں معاف کردیتا ہے، یہاں تک کہ ایک کانٹا چبھنے کے عوض بھی۔" گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

3- ظلم پر جو معاف کردے اس کا اجر ﷲ ﷻ کے ذمہ ھے۔

اللّٰہ تعالٰی مومنوں کی شان بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی ان پر ظلم کرے تو صرف اتنا ہی بدلہ لیتے ہیں اور زیادتی نہیں کرتے، اور برائی کے بدلے ویسا ہی بدلہ لیا جاسکتا ہے۔ پس جس نے برائی کرنے والے کو عفو ودرگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کردیا اور اس سے صلح کرلی اس کے لیے بہت بڑا اجر وثواب ہے جو ﷲ ﷻ کے ذمہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

4- سوار ہونے کی دعا۔

جب تم سواری پر اچھی طرح جم کر بیٹھ جاؤ تو ﷲ ﷻ کا احسان یاد کرو اور زبان سے 
سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ۔

وہ ذات پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مطیع کردیا اگر ہمیں وہ قدرت نہ بخشتا تو ہم اس کو قابو میں نہ لاسکتے تھے۔

5- ﷲﷻ کے ذکر سے غفلت کا نتیجہ

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ جو شخص اللہ تعالٰی کی یاد سے غفلت کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔ شیطان اس کو راہِ راست سے روکتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں سیدھی راہ پر چل رہا ہے۔ جب قیامت کے روز دربار الٰہی میں اعمال پیش کیے جائیں گے تو یہ کہے گا کاش! تیرے اور میرے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا۔ پس شیطان کیسا برا ہمنشین ہے جس کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑے گا۔

6- ہاہمی مشورہ کی اہمیت۔

اللّٰہ تعالٰی مومنوں کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم رکھتے ہیں، اور ضروری معاملات کے حل کے لیے آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔ اور ﷲ ﷻ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ بھی بڑے بڑے کاموں میں بغیر آپس کی مشاورت کے ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔

7- زمانے کو برا مت کہو۔

اللّٰہ تعالٰی فلسفیوں اور دہریوں کے عقائد کی نفی کررہا ہے، وھ کہتے ہیں ہمارا زندہ ہونا اور مرجانا بس یہیں دنیا میں ختم ہو جاتا ہے, (ظالم) زمانہ ہی ہمیں فنا کر دیتا ہے، مگر ان لوگوں کو کچھ علم نہیں ہے یہ تو محض قیاس اور اٹکل پچو کی باتیں کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا" اللہ تعالٰی فرماتا ہے مجھے ابنِ آدم ایذا دیتا ہے جب وہ دہر (زمانے) کو بُرا کہتا، گالی دیتا ھے۔ زمانہ تو میں ہی ہوں، تمام کام میرے ہاتھ سے ہوتے ہیں۔ رات دن کا ہیر پھیر میں ہی کرتا ہوں۔

(سورۂ حم السجدہ، سورۂ الشوریٰ، سورۂ الزخرف، سورۂ الدخان، سورۂ الجاثیہ)

فَمَنْ أَظْلَمُ پارہ-24 مختصر مضامین

أعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- اللّٰہ آنکھوں کی خیانت اور سینے کے راز جانتایے

اللّٰہ تعالٰی ایسا علیم ہے جو آنکھوں سے چوری چھپے غیر محرم پر نگاہ ڈالنے، دل کی نیت اور پیدا ہونے والے ہر خیال کو جانتا ہے "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ" اور ہر ایک بات کی باز پرس کریگا۔

2- ﷲ رحمٰن کی رحمت سے مایوس نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی قرآنِ عظیم میں اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتا کہ
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ, إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
اے میرے بندوں! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بیشک وہ سب گناہ بخش دے گا۔ پس اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مانو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے۔

3- وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ

ﷲﷻ فرمارہا ہے کہ جیسی ذات باری تعالٰی کی عظمت و قدر کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی گئی۔ لوگوں نے اسکی مخلوقات کو ہی اس کا شریک ٹھرا دیا حالانکہ اس کی رفعت و شان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے۔ اللہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔

4- آج کس کی بادشاہی ہے؟

جس دن سب لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہونگے اور انکی کوئی بات اللہ تعالٰی سے چھپی نہ ہوگی اور حکم الٰہی ہوگا کہ بتاؤ آج کس کی حکومت ہے لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ پھر خود ہی فرمائے گا، لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ حکومت اللہ ہی کی جو ایک بڑا غالب ہے۔پھر ارشادِ الٰہی ہوگا کہ آج ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔

5- تم دعا مانگو، میں قبول کروں گا

ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ "وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" مجھ سے دُعا کرتے رہو میں تمھاری دعاؤوں کو قبول کرتا رہوں گا اور جو لوگ تکبر کی وجہ سے عبادت اور دعا سے منہ موڑتے ہیں وہ عنقریب قیامت کے روز بڑی ذلت اور خواری سے دوزخ میں داخل کئے جائیں گے۔

6- باعمل مسلمان اللہ ﷻ کی عدالت میں

مؤمن جب اللہ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو فرشتے بڑی عزت اور احترام سے کہیں گے، آئیے جنت میں داخل ہوجائیے یہ جنت آپ ہی کے لئے بنائی گئی ہےاور اللہ تعالٰی کی طرف سے کے لیے داخل ہو جاؤ, اور مومن جواب میں کہیں گے کہ تمام تعریف اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔ بے شک اللہ تعالٰی کس قدر بہترین قدردان، نعمت اور انعام دینے والا ہے .

(سورۂ الزمر، سورۂ المؤمن، سورۂ حم السجدہ)

وَمَالِیَ پارہ-23 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- قیامت کے دن ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے

اللّٰہ تعالٰی قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس دن ہم مجرموں کے منہ پر مہر لگا دیں گے۔انہوں نے دنیا میں جو بد اعمالیاں کی ہونگی، تب ﷲ تعالیٰ ہاتھ اور پیر کو حکم دیں گے کہ تم بتاؤ کہ اس نے یہ عمل کیا ہے یا نہیں؟ تو انکے ہاتھ اور پیر ﷲ کے حضور میں سب کچھ سچ سچ بتادیں گے۔ پھر مجرموں کو کوئی راہ فرار نہ مل سکے گی۔

2- اہل جنت دنیاوی زندگی کا ذکر کریں گے
  
رب العزت بیان فرماتا ہے کہ اہل جنت ایک دوسرے سے دنیا کے بابت بات کریں گے ایک کہے گا میرا ایک دوست تھا حیات بعد از موت کا یقین نہیں رکھتا تھا۔ حق تعالٰی فرمائے گا کیا تم اس کو دیکھو گے۔ لہٰذا جب وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو اس کا دوست جہنم کے درمیان میں جل رہا ہوگا۔ یہ بولے گا کہ قریب تھاکہ میں بھی گمراہ ہو جاتا مگر اللہ ربّ العالمین نے اپنے فضل سے مجھے بچالیا۔

3- حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی کے ہمراہ عراق سے ہجرت کرکے ملک شام جارہے تھے۔ آپ نے اللہ تعالٰی سے ایک صالح اولاد کی دُعا کی۔ ﷲ تعالٰی نے آپ کو چھیاسی برسں کی عمر میں آپکی بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔ پھر تینوں مکہ تشریف لے آئے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آٹھ ذوالحجہ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے۔ یہی خواب آپ نے لگاتار تین راتوں میں دیکھا اور آخر کار دس ذوالحجہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مشورہ کیا کہ خواب میں حکم ہوا ہے کہ راہِ خدا میں تجھے ذبح کردوں۔تیری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا آپ حکم الٰہی کی تعمیل کریں انشاء ﷲ مجھے صابر پائیں گے۔ آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لےکر کعبہ کے نزدیک مروہ کے مقام پر پہنچ گئے اور بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اور چھری چلائی۔ تو غیب سے ندا آئی کہ اے ابراہیم ! علیہ السلام تو نے اپنا خواب سچا کردکھایا، یہ تمھارا امتحان تھا اللہ تعالٰی نے ایک ذبیحہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ بھیج دیا اور آنے والی امتوں کے لئے یہ عمل جاری کردیا ۔

4- حضرت داؤد علیہ السلام کا مشہور فیصلہ

حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنا دستور العمل (ٹائم ٹیبل) بنا رکھا تھا، ایک روز صرف عبادت کرتے، ایک روز مقدمات کا فیصلہ کر تے۔ ایک روز وعظ دیتے اور ایک روز گھر کے کام نپٹاتے۔ اور رات دن کے چوبیس گھنٹوں کو اپنے گھر والوں پر اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی انکے گھر میں عبادت میں مشغول ہوتا۔ ایک دفعہ بارگاہِ الٰہی میں اپنے اسی حسنِ انتظام کو عرض کیا تو اللہ تعالٰی کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ ﷲ نے ان کو آزمانے کے لئے دو فرشتے بھیجے جو سخت پہرے داروں کے باوجود ان کے پاس پہنچ گئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا ایک نے کہا میرے بھائی کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ وہ مجھ سے ایک دنبی چھیننا چاہتا ہے، اور وہ بات چیت میں بھی بہت تیز ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ وہ تیری دنبی چھین کر تجھ پر ظلم کرے گا، مگر ایماندار لوگ ایسا کام نہیں کرتے۔ فیصلہ کرنے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام نے سوچا کہ میرا جو وقت آج عبادت الہٰی کے لئے مخصوص تھا مقدمہ کا فیصلہ کر نے میں ضائع ہوگیا۔ پھر سمجھ گئے کہ یہ ﷲ کی طرف سے آزمائش تھی اور اللہ کی توفیق کے بغیر میں اس کی عبادت نہیں کرسکتا۔ پس سجدے میں گر کر اللہ سے معافی مانگی۔اور اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔

(سورۂ یسین، سورۂ الصفت، سورۂ ص، سورۂ الزمر)

وَمَنْ يَقْنُت پارہ-22 مختصر مضامین

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

1- مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے اجر عظیم

اُم المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسولِ اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ قرآنِ کریم میں مردوں کا ذکر آتا ہے عورتوں کا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی"بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں،اور سچے مرد اور سچی عورتیں، اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، اور گڑگڑانے والے مرد اور گڑگڑانے والی عورتیں، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، نفس کی حفاظت کرنے والے مرد اور نفس کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔ ان سب کےلئے ﷲ تعالٰی نے آخرت میں بخشش اور اجرِ عظیم تیار رکھا ہے۔

2- جن لوگوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت دی ہے

ارشاد باری تعالٰی ہے کہ عورتوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور مسلمان عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں کے سامنے ہوں۔ فرمایا عورتوں! ﷲ تعالٰی سے ڈرتی رہو بیشک ہر چیز اس کی نظر میں ہے۔

3- اللّٰہ اور اسکے فرشتے رسول کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں

اِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔
اللّٰہ تعالٰی اپنے حبیب ﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بےشک ﷲ تعالٰی خود بھی اپنے حبیب ﷺ پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ہمیشہ آپﷺ کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں اس لیے ایمان والوں تم بھی رسول اللہﷺ پر ہمیشہ درود و سلام بھیجا کرو۔

4- مومن کو سیدھی بات کرنے کاحکم

اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! اللّٰہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی سچی بات کیا کرو تاکہ ﷲ تعالٰی تمھارے کام سنواردے اور تمھارے گناہ معاف کردے۔

5- انطاکیہ پر عذاب کا واقعہ

سورۂ یٰسین میں اللہ تعالٰی انطاکیہ کے رہنے والوں کی سرکشی کی مثال بیان فرمارہا ہے جب اللہ تعالٰی کے حکم سےحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انطاکیہ والوں کے پاس دو پیغامبر حضرت یحییٰ اور حضرت یونس علیہم السلام کو بھیجا قوم نے تکذیب کی اور بادشاہ نے قید کروادیا پھر حکمِ الٰہی سے تیسرا پیغامبر شمعون کو بھیجا گیا وہ بادشاہ سے ملے اور دعا کرکے نابینا کو بینا اور مردہ کو زندہ کردیا۔ کرامات دیکھ کر بادشاہ ایک جماعت کے ہمراہ ایمان لے آیا دونوں نبیوں کو رہا بھی کردیا۔ باقی لوگوں نے تکذیب کی اور کہا ہم تمھیں نامبارک سمجھتے ہیں اور تینوں کو سنگسار کردیں گے۔ اس پر شہر کے ایک کونے سے ایک صالح شخص حبیب نجار ڈوڑتا ھوا آیا اور اہلِ قوم سے کہا تم اللہ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ کے رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے۔ اہلِ قوم نے اس شخص کو ٹاٹ میں لپیٹا اور اتنا مروڑا کہ کچل کر مرگیا۔ حکمِ الٰہی سے اس کی روح جنت میں داخل ہوئی اس وقت اس نے تمنا کی کاش میری قوم اس عزت واحترام کو دیکھتی جو اللہ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ نے مجھے بخشی ہے۔ حبیب نجار کی شہادت کے بعد ﷲﷻ نے ایک فرشتے کو بھیجا جس کی دہشتناک چیخ سے سب نافرمان ہلاک ہوگئے۔ 

(سورۂ الاحزاب، سورۂ السبا، سورۂ فاطر، سورۂ یٰسین)