Tuesday, 24 July 2018

والدین سے حسن سلوک کا حق

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
ایک انصاری آپ  ﷺ  کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: کیا میرے والدین کی موت کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک میں سے کوئی چیز باقی ہے؟آپ  ﷺ نے فرمایا "ہاں، ان کی نماز جنازہ پڑھنا، ان کے حق میں رحم و کرم اور مغفرت و بخشش کی دعا کرنا، ان کے بعد ان کے کئے وعدے پورے کرنا، ان کی وجہ سے قائم رشتوں کو جوڑنا (ان سے صلہ رحمی کرنا) ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا، ( والدین کی وفات کے بعد یہ باتیں ابھی تیرے ذمہ باقی ہیں)۔"

سنن ابی داؤد 5142

محبت اور رحم کا جذبہ

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
حضورِ اکرم  ﷺ  نے فرمایا "جو رحم  نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔"

صحیح البخاری 6013
صحیح مسلم 2318

مومن کی نشانی

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
حضورِ اکرم  ﷺ  نے فرمایا "تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ھے۔"

صحیح البخاری 13
صحیح مسلم 45

شوہر پر بیوی کے حقوق

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
حضورِ اکرم  ﷺ  نے فرمایا "کہ جب تو کھانا کھائے اسے بھی کھلا، جب تو لباس پہنے اسے بھی پہنا، اس کے منہ پر نہ مار، اسے برا نہ کہہ اور علیحدگی کو صرف گھر تک محدود رکھ۔"

سنن ابی داؤد 2142

Monday, 9 July 2018

نیت صالحہ کی اہمیت

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
حضورِ اکرم  ﷺ  نے فرمایا "میری امت کی مثال چار آدمیوں کی طرح ہے: ایک وہ جسے اللّٰہ عزوجل نے علم ومال عطاکیا،  وہ اپنے مال میں اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ھے، یعنی اسے جائز مصارف میں خرچ کرتاہے، دوسرا وہ آدمی جسے اللّٰہ نے علم تو دیا ھے مال نہیں دیا، وہ کہتا ھے: اگر میرے پاس بھی مال ھوتا تو میں اس کی طرح اس ( کو جائز مصارف میں خرچ کرنے) میں (اپنے علم کے مطابق) عمل کرتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں ثواب میں برابر ہیں۔ ایک اور آدمی جسے اللّٰہ عزوجل نے مال دیا ہے مگر علم نہیں دیا، وہ اپنے مال میں بھٹک رہاہے، یعنی اسے ناحق خرچ کرتا چلا جارہا ھے اور دوسرا وہ شخص ھے جسے اللّٰہ نے علم دیا ھے نہ مال ، وھ کہتا ھے اگر میرے پاس بھی اس طرح کا مال ہوتا تو میں بھی اس کی طرح کے (برے)کارنامے سر انجام دیتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں".
سنن ابن ماجہ 4228
جامع ترمذی 2325

Sunday, 8 July 2018

خراب نیت کی سزا

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
حضورِ اکرم  ﷺ  نے فرمایا " جب دو مسلمان ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔ عرض کی گئی: اے اللّٰہ کے رسولﷺ ! قاتل تو قتل کی وجہ سے لیکن مقتول کیوں؟ فرمایا: اس لئے کہ وھ بھی دوسرے کے قتل کے درپے تھا۔ "
صحیح البخاری 31
صحیح مسلم 2888

Friday, 6 July 2018

عذاب قبر

بسْمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم
رسول ﷲ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اورفرمایا "یقیناً ان دونوں کو عذاب ہورہا ھے اور (بظاہر) کسی بڑے جرم میں نہیں، پھر فرمایا: ہاں کیوں نہیں! (اپنی سزا کے اعتبار سے یہ جرم بڑے ہیں) : ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب (کے چھینٹوں)سے اجتناب نہیں کرتا تھا۔"
صحیح البخاری 1378