Sunday, 25 August 2019

اللہ کی وعید تین افراد پر

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت میں، میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا، اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا، پھر کام تو اس سے پورا لیا، لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔

صحیح بخاری 2270

اہل کتاب کو سلام کا جواب

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم (جواب میں اتنا) کہو :’’ وعلیکم ۔‘‘

مشکوة 4637

ناپسندیدہ جگہیں بازار ھیں

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ’’ﷲﷻ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔‘‘

مشکوة696

مسجد میں داخل ھونے و نکلنے کی دعا

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:  جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔

سنن ابی داؤد 465

بد کلامی سے بچو

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیاء، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لےجانے والا) ہے اور بد کلامی و بد زبانی، اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہے اوراکھڑ مزاجی آگ میں(لےجانے والی) ہے۔

مسند احمد 9224

معاملات کی اہمیت

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسولﷺ ! فلاں عورت اپنی نمازوں ، روزوں اور صدقات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ جہنمی ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! فلاں عورت اپنی نمازوں ، روزوں اور صدقات کی قلت کے حوالے سے مشہور ہے ، اور وہ پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور(مگر) وہ اپنی زبان درازی کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ جنتی ہے ۔‘‘

مشکوة 4992

زبان کو قابو میں رکھو

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو ، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“.

جامع ترمذی 2406