Tuesday, 18 June 2024

ناخن اور بال نہ کاٹے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسولِ کریم‌ ﷺ نے فرمایا: ”جو ماہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنا چاہتا ہو وہ ( جب تک قربانی نہ کرلے ) اپنا بال اور ناخن نہ کاٹے“۔ 

جامع الترمذی 1523 (صحیح)

عذابِ قبر کا بیان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مُحسنِ انسانیت سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے عذابِ قبر ہوتا ہے۔ 

مسند احمد 3325 (صحیح)

وسوسہ اور الہام کا بیان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر ( وسوسہ ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ( الہام ) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو شخص یہ پائے اس پر ﷲﷻ کا شکر ادا کرے۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے ﷲ کی پناہ حاصل کرے۔ پھر آپ ﷺ نے آیت الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء پڑھی۔

سنن الترمذی 2988 (صحیح)

کسی کی بےجا تعریف کی ممانعت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسولِ کریم‌ ﷺ نے سنا کہ ایک شخص دوسرے کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا۔ اس کی پشت توڑ دی۔

صحیح البخاری 2663 (صحیح)

عمرہ اور حجِ مقبول کا اجر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

خَاتَمِ النَّبِیِّیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی وقفہ میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے۔

مشکوٰۃ 2508 (متفق علیہ)

گناہوں کی تلافی و بلندی درجات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبيِ رحمت ﷺ نے فرمایا:  بیشک بندے کے لیے جب ﷲﷻ کے ہاں کوئی مقام و مرتبہ مقدر ہوچکا ہو اور وہ اپنے اعمال کی بنا پر اس تک نہ پہنچ سکتا ہو، تو ﷲ تعالٰی اسے اس کے اپنے جسم یا مال یا اولاد کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے اور پھر ﷲ کریم اسے صبر کی توفیق بھی دیتا ہے حتیٰ کہ اسے اس مقام و مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ تعالٰی کی طرف سے پہلے ہی سے اس کے لیے مقدر ہوچکا ہوتا ہے۔
سنن ابوداؤد 3090 (صحیح)

تم آخرت کے طلبگار بنو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دنیا گزر رہی ہے جبکہ آخرت آرہی ہے، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں، تم آخرت کے طلبگار بنو اور دنیا کے طلبگار نہ بنو کیونکہ آج عمل (کا وقت) ہے اور حساب نہیں جبکہ کل حساب ہوگا اور عمل نہیں ہوگا ۔

مشکوٰۃ 5215 (صحیح)