Monday, 18 December 2023

مومن کی فضیلت وصفات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ ‌ نے فرمایا: بیشک ﷲﷻ اپنے مؤمن بندے کو دنیا (اور اُسکے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اسکی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے تم اپنے بیمار آدمی پر ڈرتے ہوئے اس کو کھانے پینے سے بچاتے ہو۔

مسند احمد 146 (صحیح)

وصیت کرنے کی اہمیت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا:  کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے ۔

صحیح البخاری 2738 (صحیح)

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبيِ رحمت ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ایک دن میں سو بار یہ الفاظ کہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. اُسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا، اور اُسکے لیے ( نامہ اعمال میں ) سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اُسکے سو گناہ مٹادیے جائیں گے، اور انکی وجہ سے سارا دن، رات تک وہ شیطان سے محفوظ رہے گا، اور کسی کا عمل اسکے عمل سے افضل نہیں ہوگا، سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ ذکر کرے۔

سنن ابنِ ماجہ 3798 (صحیح)

دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صادق و امین رسولِ کریم‌ ﷺ نے فرمایا: جو شخص {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} یعنی سورۂ اخلاص آخر تک دس مرتبہ پڑھے گا، ﷲﷻ اسکے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: اے اللّٰه کے رسولﷺ ! پھر تو میں بہت سے محلات حاصل کرسکتا ہوں۔ آپ ‌ﷺ نے فرمایا: اللّٰه تعالٰی بھی بہت کثرت والا اور بہت عمدہ عطا کرنے والا ہے۔

مسند احمد 8869 (صحیح)

تقاضے میں نرمی کا اجر

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خیرُالبشر رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پاس کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا ۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا۔ اسی پر اس کی بخشش ہو گئی

صحیح البخاری 2391 (صحیح)

صدقہ وخیرات میں بہترین مال دو

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک دفعہ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ تشریف لائے، آپﷺ کے ہاتھ میں عصا تھا۔ کوئی شخص ( مسجد میں بطور صدقہ ) ردی قسم کی کھجور کا ایک خوشہ لٹکا گیا تھا۔ آپﷺ اس خوشے پر اپنی لاٹھی مارنے لگے اور فرمایا: اگر اس صدقے والا چاہتا تو اس سے اچھی کھجور کا صدقہ کرسکتا تھا۔ بلاشبہ اس قسم کا صدقہ کرنے والا قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔

سنن النسائی 2495 (صحیح)

تلاوتِ قرآن پاک میں سُستی نہ کرو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: قرآن کی خبر گیری (تلاوت ) کرتے رہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں، اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو۔

مشکوٰۃ 2187 (متفق علیہ)