Monday, 18 December 2023

تلاوتِ قرآن پاک میں سُستی نہ کرو

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: قرآن کی خبر گیری (تلاوت ) کرتے رہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں، اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو۔

مشکوٰۃ 2187 (متفق علیہ)

اپنے مال کی حفاظت میں قتل ھونے کا بیان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو ( چور یا ڈاکو سے ) بچانے کے لیے ( اس کا مقابلہ کرتے ہوئے ) قتل ہوگیا، وہ شہید ہے۔

سنن ابنِ ماجہ 2580 (صحیح)

ذکرِ الٰہی کرنے والوں کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

محبوب رب العالمین حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: ”جو قوم ﷲﷻ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اُسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اُسے ڈھانپ لیتی ہے، اُس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور ﷲ کریم اس کا ذِکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔

جامع الترمذی 3378 (صحیح)

خیر وبھلائی کی تعلیم دینے والے کا اجر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رسولِ کریم ﷺ سے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد اور دوسرا عالم ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جس طرح میری فضیلت تمہارے ادنیٰ آدمی پر ہے۔‘‘ پھر رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:  بے شک اللہ، اس کے فرشتے، زمین و آسمان کی مخلوق حتٰی کہ چیونٹی اپنے بل میں اور مچھلیاں، لوگوں کو خیر و بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں۔

مشکوٰۃ 213 (صحیح)

Tuesday, 5 December 2023

نمازِ عصر کی اہمیت و فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مُخبرِ صادق حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا:  جس شخص کی نمازِ عصر فوت (قضا) ہوگئی تو گویا اس کا گھر بار لٹ گیا۔

مشکوٰۃ 594 (متفق علیہ)

تین بلیغ مگر مختصر نصیحتیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ایک آدمی رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصر نصیحت کریں، آپ ‌ﷺ نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر، اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (بے پرواہ ) ہوجا۔

مسند احمد 9584 (صحیح)

گری پڑی گمشدہ چیزوں کے متعلق بیان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا:  جسے کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے چاہیے کہ ایک یا دو عادل گواہ بنالے اور چھپائے نہیں اور نہ غائب کرے، پھر اگر اس کے مالک کو پائے تو اسے لوٹا دے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔

سنن ابوداؤد 1709 (صحیح)