Tuesday, 6 December 2022

ﷲﷻ کا شُکر ادا کرنے کا بہترین انداز

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو کوئی خوش کن معاملہ پیش آتا تو آپﷺ ﷲ تعالٰی کا شُکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہوجایا کرتے تھے ۔ 

مشکوٰۃ 1494 (صحیح)

ﷲﷻ بہت رحیم و کریم ھے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 ‌نبيِ رحمت ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے جسکو بھی کوئی جسمانی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو ﷲﷻ اسکی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہتا ہے: میرا بندہ دن اور رات میں خیر و بھلائی کے جو کام (صحت کی حالت میں) کرتا تھا، تم وہ لکھتے جاؤ، جب تک یہ زندہ رہے۔ 

مسند احمد 2416 (صحیح)

استغفار کرنے کی فضیلت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: بندہ اس وقت تک ﷲﷻ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک ﷲ تعالٰی سے استغفار کرتا رہتا ہے۔ 

مسند احمد 5483 (صحیح)

جھوٹی قسم کھانے پر وعید

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ( کسی حاکم وغیرہ کی مجلس میں محبوس ہوکر یا دیدہ دانستہ ) جھوٹی قسم کھائی تو اسے چاہیے کہ اپنے چہرے کا مقام آگ میں بنالے ۔  

سنن ابوداؤد 3243 (صحیح)

اصل میں پہلوان کون ھے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وجہِ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ زبردست پہلوان ( بہت زیادہ پچھاڑنے والا ) کسے کہتے ہو ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا: جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں  آپﷺ نے فرمایا: نہیں، پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔ 

سنن ابوداؤد 4779(صحیح)

برکت والی تسبیحات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے فرمایا: ”کچھ چیزیں نماز کے پیچھے ( بعد میں ) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد 33 بار سبحان اللہ کہے، 33 بار الحمدللہ کہے، اور 34 بار اللہ اکبر کہے“۔

جامع الترمذی 3412 (صحیح)

روزانہ دو فرشتوں کا اعلان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مُحسنِ انسانیت سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفٰیﷺ نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں ۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللّٰه ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے ۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللّٰه ! ممسك (کنجوس) اور بخیل کے مال کو تلف کردے ۔

صحیح البخاری 1442 (صحیح)