Thursday, 28 February 2019

اللہﷻ کا ذکر فضول بولنے سے افضل ھے

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی کے ذکر کے سوا زیادہ باتیں نہ کیا کرو ایسے کلام کی کثرت دل کو سخت کردیتی ہے اور سخت دل والا اللہﷻ سے بہت دور ہوجاتا ہے۔

ترمذی 2411

لوگوں میں سب سے بہتر اور بدتر شخص





بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟رسول اکرمﷺ نے فرمایا ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو“، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 
”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“
جامع ترمذی 2330

Friday, 22 February 2019

امت محمد ﷺ کا اعزاز

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں ملاکر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہﷻ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔

ابنِ ماجہ 4288

حجر اسود کے بوسہ کا اجر

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“

ترمذی 961

Thursday, 21 February 2019

عورتوں کو نصیحت

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت سے ملنے بعد آکر اپنے شوہر سے اس کا حلیہ (اوصاف) بیان نہ کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے (دیکھنے کی خواہش پیدا ھو)۔

صحیح البخاری 5240

بے عمل مبلغ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈالا جائے گا اس کی آنتیں نکل آئیں گی اور وہ اس کے اردگرد چکر کھاتا رہےگا اور جہنمی جمع ہو کر اس سے پوچھیں گے کہ حضرت! آپ تو ہمیں اچھی اچھی باتوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے تھے، یہ آپ کی کیا حالت ھے؟ وہ کہے گا افسوس میں تمہیں کہتا تھا اور خود نہیں کرتا تھا میں تمہیں روکتا تھا لیکن خود نہیں رکتا تھا۔

مسند احمد 205/5, صحیح البخاری 3267 ،مسلم۔

Wednesday, 20 February 2019

نماز فجر اور نماز عصر کی اہمیت

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں۔ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں ( ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا ) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ ( فجر کی ) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ ( عصر کی ) نماز پڑھ رہے تھے۔

صحیح البخاری 555