Friday, 12 November 2021

دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔ 

سنن ابنِ ماجہ 3266

حضور اقدسﷺ کی تین چیزوں پر قسم

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 نبيِ رحمت ﷺ نے تین چیزوں پر قسم اٹھائی ھے: (۱) صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی، پس صدقہ کیا کرو، (۲) جب بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے کسی ظلم کو معاف کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی عزت میں اضافہ کر دے گا اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ 

مسند احمد 9183

بہترین صدقہ

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبيِ رحمت ﷺ نے فرمایا: ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار جو تو نے گردن آزاد کرنے میں خرچ کیا ایک دینار وہ ہے جسے تونے کسی مسکین پر خرچ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا، ان میں سے سب سے زیادہ باعث اجر وہ ہے جو تو نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا۔

مشکوٰۃ 1931

نیک عورت کی اہمیت کا بیان

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

امام الانبیاء سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا: دنیا سب کی سب وقتی فائدے کی چیز ہے، اور دنیا کے سامان میں سے بہترین چیز نیک عورت ہے ۔

سنن نسائی 3234

کسی بھی نیکی کو معمولی نہ سمجھو

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : نیکی کے کسی بھی کام کو معمولی مت سمجھو، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو ۔

مشکوٰۃ 1894

توبہ کی توفیق

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔  

مسند احمد 2993

قیامت کے دن سوال وجواب

بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا“۔ 

جامع الترمذی 2416